بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ماں کہنے سے نکاح کا حکم


سوال

 ایک شخص نے اپنی بیوی کو یہ کہہ دیا کہ تم میری ماں ہو۔ بیوی نے اُسے منع کیا کہ شریعت میں ماں سے تشبیہ دینا منع ہے، لیکن وہ شخص بار بار اپنی بیوی کو ماں کہہ کر پکارتا ہے۔ بلکہ ایک بار یہاں تک کہہ دیا کہ تم میری بیوی نہیں ماں ہی تو ہو۔ دونوں کے مابین چار پانچ سال سے ازدواجی تعلق بھی نہیں۔ براہِ کرم فقہ حنفی کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ اس کا نکاح برقرار ہے یا ٹوٹ گیا؟

جواب

مذکورہ شخص کا اپنی بیوی کو ماں کہنا شریعت کی رو سے درست نہیں ہے، فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اپنی بیوی کو ماں، بہن یا بیٹی کہنا مکروہ ہے۔ سوال میں مذکورہ جملوں میں چوں کہ ماں سے تشبیہ دینا نہیں پایا جارہا، بلکہ بیوی کو ہی ماں کہا ہے، اس لیے ان الفاظ سے نہ ظہار ہوگا اور نہ ہی طلاق، لہٰذا زوجین کے نکاح میں کوئی اثر نہیں پڑے گا، دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے خواہ جتنے بھی عرصہ سے ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو ، بشرطیکہ نکاح کے ٹوٹنے کا کوئی دوسرا سبب نہ پایا گیاہو۔

ہاں اگر شوہر تشبیہ دیتے ہوئے یوں کہتا کہ ’’تم میری ماں کی طرح ہو‘‘، یا ماں کے جسم کے کسی ایسے حصے سے تشبیہ دے کر کہتا جس حصے کو دیکھنا اس کے لیے جائز نہ ہو تو اس سے ظہار ہوجاتا اور طلاق کی نیت کی صورت میں طلاق ہوجاتی۔ بہرحال مذکورہ جملے کہنا مکروہ ہے، آئندہ ایسے جملے کہنے سے اجتناب کرے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 470):

(وإن نوى بأنت علي مثل أمي) ، أو كأمي، وكذا لو حذف علي خانية (برا، أو ظهارا، أو طلاقا صحت نيته) ووقع ما نواه لأنه كناية (وإلا) ينو شيئا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.

فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144109202002

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں