بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو غلطی سے ماں کہہ کر پکارنے کا حکم


سوال

غلطی سے بیوی کو ماں کہہ کر پکارنا حالاں کہ اس کا ارادہ نہ ہو؟

جواب

بیوی کو ماں کہہ کر پکارنا اچھا نہیں ہے، البتہ بیوی کو ماں کہہ کر پکارنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 470):

(وإلا) ينو شيئًا، أو حذف الكاف (لغا) وتعين الأدنى أي البر، يعني الكرامة. ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه.

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110201678

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں