بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1444ھ 14 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو خدمت نہ کرنے کی وجہ سے جہنمی کہنا


سوال

اگر  شوہراپنی بیوی سے کہے کہ تو مىری خدمت نہیں کرتی؛  اس لیے تو  جہنمی ہے تو  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

کسی بھی انسان کی زندگی  میں اس کے جنتی ہونے یا جہنمی ہونے کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس  لیے  کسی کافر کو بھی کفر پر  مرنے سے پہلے زندگی  میں جہنمی کہنا جائز نہیں ہے،  چہ جائیکہ کسی گناہ گار مسلمان کو، لہٰذا مذکورہ شخص کا اپنی بیوی کو خدمت نہ کرنے کی وجہ سے جہنمی کہنا انتہائی نامناسب بات ہے، ایسی بات کہنا اللہ تعالیٰ پر بڑی جرأت کرنے کے مترادف ہے، یعنی جو فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہ فیصلہ بندہ خود اپنی جہالت سے کرلے تو  یہ بہت بڑی جرأت ہے، اس  لیے مذکورہ شخص اپنی بیوی سے معذرت کر ےاور  سچے دل سے توبہ و استغفار کر ے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200528

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں