بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی طرف سے زکوۃ نکالنے کے لیے ہر سال نیت ضروری نہیں


سوال

اگر کسی کا شوہر اپنی بیوی کی زکوۃ ادا کرتا ہو اور بیوی کو یہ معلوم ہوکہ میرے پاس جو زیور ہے اس کی زکوۃ میرا شوہر ادا کرتا ہے ،تو  کیاشوہر کے اوپر یہ لازم ہے کہ جب بھی زکوۃ نکالے تو  اپنی بیوی کے علم میں لائے،تاکہ وہ زکوۃ کی نیت کر لے ،اگر ضروری ہے تو پچھلے پانچ یا چھ سالوں کی ادا شدہ زکوۃ کا کیا حکم ہوگا ،کیا وہ پھر سے دوبارہ دینی ہوگی یا نہیں؟۔ اورآئندہ کے لیے یہ پوچھناہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کی زکوۃ نکالے تو ہر دفعہ اس کے علم میں لانا ضروری ہے تاکہ وہ زکوۃ کی نیت کر لے یا صرف ایک ہی دفعہ اجازت لینے سے ہی کافی ہوگا یا پچھلی اجازت جو پانچ یا چھ سال پہلے لی گئی ہے وہ بھی آئندہ کے لیے کافی ہوگی. (یہاں پچھلی اجازت پانچ یا چھ سال سے مراد یہ ہے کہ شوہر نے اپنے ہی ذمے بیوی کی زکوۃ ادا کرنے کی ذمہ داری لی ہوئی  ہے اور بیوی کو اس بات کا علم ہے کہ میرا شوہر میرے زیور کی زکوۃ ادا کر تا  ہے)۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب شوہر  اپنی بیوی کی طرف سے زکوۃ ادا کرنے کی ذمہ داری لے لے اور بیوی کو  اس کا علم بھی ہو کہ میرا شوہر میری طرف سے زکوۃ ادا کرتا ہے  تو بیوی کی  طرف سے شوہر کازکوۃ ادا کرنا درست ہے چونکہ دلالۃ اجازت موجود ہوتی ہے لہذا ہردفعہ اس کے علم میں لاناضروری نہیں ہوگا،اسی طرح آئندہ کے لیے  بھی از سرِنو     زکوۃ ادا کرنے کی نیت کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ولذا لو امر غيره بالدفع عنه جاز."

(کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:270، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز  ."

(کتاب الزکوۃ، الباب الاول، ج:1، ص:171، ط:دارالفکر)

البحرالرائق میں ہے:

"وكما إذا وكل رجلا بدفع زكاة ماله ونوى المالك عند الدفع إلى الوكيل فدفع الوكيل بلا نية فإنه يجزئه؛ لأن المعتبر نية الآمر؛ لأنه المؤدي حقيقة."

(کتاب الزکوٰۃ، شروط اداء الزکوۃ، ج:2، ص: 226، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101910

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں