بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی نوکری کی وجہ سے اس پر بغیر ثبوت بہتان لگانے کا حکم


سوال

میرے شوہر مجھ پر بہتان لگاتے ہیں اور میری کردار کشی کرتے ہیں، میرے ڈاکٹری کے پیشے کے خلاف ہیں، میرا جاب(نوکری) کرنا میری مجبوری ہے معاشی مسائل کی وجہ سے، کیا اس طرح کے شخص کے ساتھ رشتہ برقرار رکھنا چاہیے جو بغیر ثبوت کے کردارکشی کرے اسلام کے کیا احکامات ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی مصالحت کا راستہ اپناتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں،اگر شوہر کو بیوی کا نوکری کرنا پسند نہیں ہے،اور وہ بیوی کی جائز ضروریات کو پورا کرسکتا ہےتو شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی نوکری نہ کرے،تاہم  اگر معاشی مسائل اور مجبوری کی وجہ سے سائلہ شرعی پابندیوں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی نوکری کرتی ہو تو شوہر کو چاہیے کہ وہ بلاثبوت بیوی پر  تہمت نہ لگائے اور  اس کی کردار کشی نہ کرے،کسی پر بہتان لگانا شرعاً انتہائی ناپسندیدہ ،سخت گناہ اور حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ مؤمنین اور بے گناہ مؤمنات کو زبانی ایذا دینے والوں یعنی ان پر بہتان باندھنے والوں کے عمل کو صریح گناہ قرار دیاہے۔اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے  وہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا  آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے، یعنی بہت بڑا گناہ ہے۔ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: مسلمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔

ایک روایت میں ہے: جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا ، تہمت ، یا جھوٹی بات منسوب کی) جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے ، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو) دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا (وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے (دنیا میں) باز آ جائے (رک جائے ، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے)۔

(مسند أحمد : 7/204 ، سنن أبي داود : 3597 ، ، تخريج مشكاة المصابيح : 3/436 ، 3542 )

الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اوربیوی  پربلاثبوت  تہمت لگائی ہے تواس سے معافی مانگنی چاہیے؛ تاکہ آخرت میں گرفت نہ ہو۔اگر آپس کی بات چیت سے مسئلہ حل نہ ہوتو خاندان کےبڑوں کو درمیان میں بٹھا کر مسئلہ حل کرایا جائے، یک دم رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کرنا دانشمندی نہیں ہے۔

قرآن مجید میں ہے :

"وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا  ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا۔"(النساء، آیت نمبر: 35)

ترجمہ :"اور اگر تم (اوپر والوں) کو ان دونوں (میاں بیوی) میں کشاکش کا اندیشہ ہو تو تم لوگ ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک آدمی جو تصفیہ کرنے کی لیاقت رکھتا ہو عورت کے خاندان سے بھیجو اگر ان دونوں آدمیوں کو اصلاح منظور ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان (میاں بی بی) میں اتفاق فرماویں گے۔"(بیان القرآن)

كنز العمال  میں ہے:

"عن علي رضی اللہ عنہ قال: البهتان على البراء أثقل من السموات. الحكيم".

(الاخلاق المذمومۃ،ج:3،ص: 802، رقم الحدیث: 8810،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)

مشکاة المصابیح میں ہے:

"عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لاینبغي لصدیق أن یکون لعانًا".

(کتاب الآداب، باب حفظ اللسان والغیبۃوالشتم، الفصل الاول، ج:2،ص:425،ط:رحمانیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307100626

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں