بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو ماں کہنے سے کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟


سوال

بیوی کو  ماں کہنے سے کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

آپ نے سوال میں یہ ذکر نہیں کیا کہ کہنے والے نے بیوی کو ماں کہتے ہوئے کیا الفاظ استعمال کیے، بہرحال! اگر کوئی شخص بیوی کو  ماں کہتا ہے اور جملہ کی ادائیگی کے وقت ان الفاظ سے طلاق کی نیت کرتا ہے تو اس کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔

اور اگر وہ شخص اپنی بیوی کو ماں سے تشبیہ دیتا ہے یعنی الفاظ یوں استعمال کرتا ہے کہ ’’تو میری ماں کی طرح ہے‘‘ تو   اگر اس نے یہ الفاظ ظہار کی نیت سے کہے ہوں تو شرعاً ظہار کا حکم ہوگا، یعنی اس صورت میں جب تک شوہر  ظہار کا کفارہ  (غلام آزاد کرنا، یا پے در پے دو ماہ کے روزے رکھنا، یا مسلسل روزہ رکھنے کی قوت نہ ہونے کی صورت میں ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا) ادا نہ کردے  اپنی منکوحہ سے ازدواجی تعلق قائم کرنا حلال نہیں ہوگا۔

اور  اگر اس نے بیوی کو  ماں کی طرح محترم قرار دینے کی نیت سے یا بغیر نیت کے بیوی کو  ماں کہا ہو اور تشبیہ کا لفظ بھی استعمال نہ کیا ہو   تو اس کے کہنے سے نہ طلاق ہوگی اور نہ ہی ظہار ہوگا۔

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

’’اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے غصے میں یہ کہتا ہے کہ ’’جا تو میرے لیے ماں و بہن ہے‘‘  تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی‘‘۔ (فتاوی رشیدیہ ص: 476 ط: عالمی مجلس تحفظ اسلام )

البتہ بیوی سے ایسے الفاظ کہنا ناپسندیدہ ہے، اس لیے آئندہ اجتناب کرے۔

الدر المختار مع رد المحتار (3 / 470):

"( وإن نوى بأنت علي مثل أمي ) أو كأمي وكذا لو حذف علي، خانية ( براً أو ظهاراً أو طلاقاً صحت نيته ) ووقع ما نواه؛ لأنه كناية ( وإلا ) ينو شيئاً أو حذف الكاف، ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه".

و في الرد:

"(قوله:حذف الكاف ) بأن قال أنت أمي، ومن بعض الظن جعله من باب زيد أسد، در منتقى عن القهستاني، قلت: ويدل عليه ما نذكره عن الفتح من أنه لا بد من التصريح بالأداة، (قوله: لغا )؛ لأنه مجمل في حق التشبيه، فما لم يتبين مراد مخصوص لا يحكم بشيء، فتح (قوله: ويكره الخ ) جزم بالكراهة تبعاً للبحر و النهر، والذي في الفتح: وفي أنت أمي لايكون مظاهراً، وينبغي أن يكون مكروهاً، فقد صرحوا بأن قوله لزوجته: يا أخية مكروه، وفيه حديث رواه أبو داود أن رسول الله سمع رجلاً يقول لامرأته: يا أخية، فكره ذلك ونهى عنه، ومعنى النهي قربه من لفظ التشبيه، ولولا هذا الحديث لأمكن أن يقول: هو ظهار؛ لأن التشبيه في أنت أمي أقوى منه مع ذكر الأداة، ولفظ يا أخية استعارة بلا شك، وهي مبنية على التشبيه، لكن الحديث أفاد كونه ليعين ظهاراً حيث لم يبين فيه حكماً سوى الكراهة والنهي، فعلم أنه لا بد في كونه ظهاراً من التصريح بأداة التشبيه شرعاً، ومثله أن يقول لها: يا بنتي أو يا أختي ونحوه". فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144109200473

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں