بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے زیور کی زکاۃ دینا شوہر پر لازم نہیں


سوال

میرے شوہر لاکھوں کے قرض میں مبتلا ہیں تو  کیا ان پر میرے زیور کی زکاۃ ادا کرنا  ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ بیوی کی ملکیت میں جو زیور ہو اس  کی زکاۃ اسی پر لازم ہوتی ہے، شوہر پر بیوی کے زیورات کی زکاۃ ادا کرنا لازم نہیں، تاہم اگر شوہر ادا کردے تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہے۔

صورتِ مسئولہ میں آپ کی ملکیت میں نصاب کی بقدر سونا هےیاسونے کے ساتھ اتني رقم ،چاندی یا مالِ تجارت ہے جس سے مجموعے کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہے اور آپ پر اتنا قرضہ نہیں جو مال کو نصاب سے کم کردے تو آپ پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے،شوہر کے قرضے کی وجہ سے آپ سے زکوٰۃ ساقط نہیں ہوگی۔

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"الزكوة واجبة علي الحر العاقل البالغ المسلم اذا بلغ نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول."

(کتاب الزکوۃ، ج:2، ص:217، ط:ادارۃ القرآن)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض) ، وفيه فصلان (الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة)

تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة ... وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما، ولو ملك مائة درهم وعشرة دنانير أو مائة وخمسين درهما وخمسة دنانير أو خمسة عشر دينارا أو خمسين درهما تضم إجماعا كذا في الكافي. ولو كان له مائة درهم وعشر دنانير قيمتها أقل من مائة درهم تجب الزكاة عندهما وعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - اختلفوا فيه والصحيح أنه تجب كذا في محيط السرخسي."

(کتاب الزکوۃ، الباب الثالث،ج:1،ص: 179،ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں