بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1441ھ- 07 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے حقوق سے متعلق چند احکامات


سوال

میں ایک میڈیکل ڈاکٹر ہوں۔ ہم سات بہن بھائی ہیں اور میں سب سے بڑا ھوں۔1993 میں میرے والد کی وفات ہو گئی میں اُس وقت میٹرک میں تھا۔ میری والدہ نے ماموں وغیرہ کی مدد سے ھماری پرورش کی۔ میں نے سارے خاندان اور اپنی والدہ کی صرف مرضی ہی نہیں بلکہ بھر پُور مخالفت کے باوجُود اپنی مرضی لیکن لڑکی کے والدین کی رضامندی اور اُنکی شمولیت سے شادی کی۔صرف میرے پھوپھا اور پھوپھو ھی میری شادی میں شامل ہوئے۔ اب میری ایک بیٹی ہے اور میں اپنی عائلی زندگی سے مطمئن ہوں۔ میرے ایک چھوٹے بھائی اور دونوں بہنوں کی شادی بھی ہو چُکی ہے اور میرا چھوٹا شادی شدہ بھائی باقی بھائیوں کے ساتھ میری والدہ کے پاس ہی رہتا ہے۔ اورمیں اپنی فیملی کے ساتھ لاہور رہتا ہوں کیونکہ میری ملازمت لاہور میں ہے۔ میں والدہ کو شروع دِن سے ہی اپنی تنخواہ میں سے معقول حصہ دے رہا ہوں۔پہلے میرے گھر والوں نے مجھے پھر میں جب اپنی بیوی کو ساتھ لے کر گیا تو اُسے بھی قبول نہیں کیا بلکہ مجھے گھر سے نکال دیا۔ پھر معاملات ٹھیک ہونا شروع ہو گئے اور اب میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ جب بھی اوکاڑہ جاتا ہوں گھر چکر ضرور لگاتا ہوں اور بعض اوقات ہم پورا پورا دِن بھی گزار لیتے ہیں۔ لیکن سُسرال کے ہاں ٹھرتا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میرےگھرکومیری ضرورت ہے خصوصآ چھوٹوں کی نگرانی کیلئے۔پہلے میری بیوی والدہ کو مناتی بھی رہی کہ ہمیں گھر رکھ لیں لیکن وہ نہ مانیں اب میری والدہ کہتی ہیں کہ اپنے فیملی کو گھر یعنی اوکاڑہ سب لوگوں کے ساتھ رکھو اور خُود چاہے15 یا 20 دِن بعد چکر کگا لیا کرو۔لیکن اب میری بیوی یہ کہہ کر بات ٹال دیتی ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے چاہے تم اوکاڑہ رہو یا لاہور۔ واضح رہے کہ میری مللازمت اپنی نوعیت اور مزید پڑھائی کی وجہ سے اوکاڑہ سے باہر ہی رہے گی لیکن میری والدہ کا یہ کہنا اِس شرط کے ساتھ ہے کہ میری بیوی کے خاندان کا کوئی فرد میرے گھر میں داخل نہ ہو میری بیوی اگر اپنے والدین اور گھر والوں سے ملنا چاہے تو اُدھر جا کے مِل لے۔ دوسری طرف بیوی کے والدین کا یہ مطالبہ ہے کہ اُنکی بیٹی کو صرف اُس صورت میں میری والدہ کے گھر جانا چاہئے جب میری والدہ خُود اُنکے ہاں جا کر اُن سب باتوں کا ازالہ کریں جو کہ انہوں نے شادی سے پہلے ان پر الزامات لگا کر انہیں انکے خاندان میں ذلیل کرنے کے سلسلے میں کیں۔ دوسرا یہ کہ میری والدہ کو جس طرح بہو کو اپنی بیٹی بنا کر اُسکے گھر سے لایا جاتا ہے اُس طرح اُسکو ہمارے گھر سے لے کر جانا چاہیے محض ایک کارروائی کے طور پر بغیر رسوم و رواج کے میں نے حضرت تھانوی کی بہشتی گوہر میں شاید یہ پڑھا تھا کہ ماں باپ اور بیوی میں اعتدال رکھنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر بیوی الگ گھر کا مطالبہ کرے تو شوہر کو چاہئے کہ اُسکا یہ مطالبہ پورا کرے۔برائے مہربانی مجھے اِس سلسلے میں شرعی رہنمائی درکار ہے کہ اِس ساری صورتِ حال میں مجھے کیا اپنی بیوی پر جبر کر کے اپنی والدہ کے ساتھ رہنے پر مجبور کرنا چاہیے جِس سے خُود میرے عائلی تعلقات کی فضا خراب ہو سکتی ہے؟بیوی کو کافی دفعہ سمجھا چُکا ہوں لیکن وہ یہی کہتی ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے اور اُس کے ذہن میں میری والدہ کی یہ بات بھی ہے کہ وہ اُسکے والدین اور گھر والوں کے میرے ہاں آنے کی اجازت نہیں دیں گی تو ایسی صُورتِ حال میں کیا اُسکا یہ مطالبہ جائز ہے؟ دونوں صورتوں میں سے کونسی جائز اور کونسی ناجائز ہے جبکہ کافی تگ و دو کے باوجُود کسی درمیانی صُورت کا رستہ بھی نہیں بن پا رہا ؟

جواب

ذاتی امورسے قطع نظر،بیوی کا یہ مطالبہ کہ میں تمہارے شوہرساتھ رہوں گی، درست ہے۔اوربیوی کے لیے الگ گھرنہیں بلکہ ایک کمرہ جوتمام ضروریات پرمشتمل ہواس کا حق ہے اس قدر اسے جہاں کہیں ہو دلوادیں،خواہ والدہ کے مکان میں یا ان سے الگ، جس میں منکوحہ اپنی خودمختاری وآزادی کے ساتھ رہے۔ اتنا منکوحہ کا شرعی حق بنتا ہے جسے شوہر کو پوراکرنا ہے، باقی والدین سے ملنا جلنا وہ الگ مسئلہ ہے۔ بیوی کا جتنا حق جس طرح بنتاہے وہ اگر آپ والدہ کے گھر میں پورا کردیتے ہیں توپھراسے وہاں رہنے پر مجبور کرسکتے ہیں جبکہ ساتھ رکھنا مشکل ہویا غیر مناسب ماحول ہو،پھر بیوی کو شوہرکی بات ماننی ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200297

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں