بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی اپنے مقروض شوہر کو قرضہ اداکرنے کے واسطے زکات نہیں دے سکتی ہے


سوال

کیا بیوی شوہر کو زکات دے سکتی ہے؟

وضاحت:شوہر قرضدار ہے اور قرضہ ختم کرنا چاہتا ہے بیوی کا زکات دینے کا مقصد یہ ہے کہ میراشوہر اپنا قرضہ اداکرے یہ مقصد نہیں کہ شوہر ان پیسوں سے گھر کے اخراجات پورے کرے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں صاحب نصاب بیوی اپنے مقروض شوہر کواس کےقرضہ اداکرنے کے واسطے بھی زکات نہیں دے سکتی ہے،  البتہ اگر شوہر مستحقِ زکاۃ ہو نیز اس پر قرضے بھی ہوں  تو وہ  و وہ بیوی کے مال کی زکاۃ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی زکاۃ وصول کر سکتا ہے۔

نوٹ:زکاۃ کا مستحق وہ مسلمان ہے  جس کے پاس اس کی بنیادی ضرورت  و استعمال ( یعنی رہنے کا مکان ، گھریلوبرتن ، کپڑے وغیرہ)سے زائد،  نصاب کے بقدر  (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت  کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو  اور وہ سید/ عباسی نہ ہو۔ 

فتح القدير للكمال ابن الهمام میں ہے:

"قال (ولا يدفع المزكي زكاته إلى أبيه وجده وإن علا، ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل) لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال (ولا إلى امرأته) للاشتراك في المنافع عادة (ولا تدفع المرأة إلى زوجها) عند أبي حنيفة - رحمه الله - لما ذكرنا.

قوله ولا إلى امرأته للاشتراك في المنافع) قال الله تعالى {ووجدك عائلا فأغنى} [الضحى: 8] أي بمال خديجة. وإنما كان منها إدخاله - عليه الصلاة والسلام - في المنفعة على وجه الإباحة والتمليك أحيانا فكان الدافع إلى هؤلاء كالدافع لنفسه من وجه إذ كان ذلك الاشتراك ثابتا، وكذا لا يدفع إليهم صدقة فطره وكفارته وعشره، بخلاف خمس الركاز يجوز دفعه لهم لأنه لا يشترط فيه إلا الفقر."

(كتاب الزكوة، باب من يجوز دفع الصدقة اليه ومن لايجوز، ج:2، ص:270،269، ط: دارالفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں