بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا اپنے شوہر کے ترکہ میں سے کچھ بیٹوں کودیگر ورثاء کی اجازت کے بغیرکچھ رقم بطور ہدیہ دینے کا حکم


سوال

ہمارے والد محترم مختیار کار تھے اور اپنے پیسوں سے ایک زرعی زمین خریدی تھی اور اپنی زندگی میں اپنی زوجہ کو جنرل پاور آف اٹارنی دی تھی، والد نے پھر اسی زمین کو اپنی زندگی میں فروخت کردیا، کچھ رقم والد صاحب نے اپنی زندگی میں وصول کی تھی اور بقایا رقم ہماری والدہ نے ان کے انتقال کے بعد وصول کرلی تھی، عدالت کی وجہ سے اس زمین کے حساب کتاب کی دیکھ بھال پر ہمارے دو بھائیوں کو مامور کیاتھا، والدہ کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے کہا کہ  والدہ نےاسی گھر کی  رقم میں سے کچھ رقم بطورِ ہدیہ ہم دونوں بھائیوں کو دی تھی، جب کہ نہ والدہ نے اپنی زندگی میں اس بات کا تذکرہ کیا اور نہ ہی بھائیوں نے کسی کو بتایا تھا، چوں کہ ان کے پاس نہ کوئی گواہ ہے، نہ کوئی تحریری دستاویز ہے ، اس لیے یہ مسئلہ حل کا متقاضی ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ والد صاحب کی فروخت کردہ زمین کی رقم والدہ  دونوں بھائیوں کو دے سکتی ہے؟ جب کہ کسی وارث نے ان کو اجازت نہیں دی تھی،  اور نہ دیگر ورثاء اس بات پر راضی ہے۔

والدصاحب  کے ورثاء میں پانچ بیٹیاں، اور دو بیٹے ہیں، والد اور والدہ کے والدین ان سے قبل انتقال کرچکے تھے، والد کا ترکہ ان کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر  واقعۃً درست ہے کہ سائل کے والدنے زرعی زمین خریدی تھی اور پھر اسے اپنی زندگی میں فروخت بھی کی تھی، جس کی کچھ رقم سائل کے والد نے اپنی زندگی میں وصول کی اور باقی رقم  والدہ نے  والد  کے انتقال کے بعد وصول کی،تو والدہ کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر تقسیم سے پہلے  ترکہ کے مشترکہ مال میں سےکسی کو ہبہ کرتی،لہٰذا اگر دیگر ورثاء اس پر راضی نہیں ہے  تو   والدہ نے جتنی رقم وصول کی تھی وہ والد کا ترکہ ہے، جو والد کے   تمام ورثاء میں شریعت کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ سب سے پہلےسائل کے والد مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد، اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد ،اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو توباقی ترکہ کے ایک تہائی  حصہ  میں سے اسے نافذ  کرنے کے بعد  جو ترکہ  باقی رہ جائے، اس  کےکلنو حصے  کر کے مرحوم کے ہرایک بیٹے کودو،دو حصے،اور ہرایک بیٹی کوایک،ایک حصہ ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:9/ والد مرحوم

بیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2211111

یعنی 100 روپے میں سے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 22.222 روپے اور ہر ایک بیٹی کو 11.111روپے ملیں گے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم  ....(ولنا) إجماع الصحابة - رضي الله عنهم - فإنه روي أن سيدنا أبا بكر قال في مرض موته لسيدتنا عائشة - رضي الله عنها - إن أحب الناس إلي غنى أنت وأعزهم علي فقرا أنت وإني كنت نحلتك جداد عشرين وسقا من مالي بالعالية وإنك لم تكوني قبضتيه ولا جذيتيه وإنما هو اليوم مال الوارث اعتبر سيدنا الصديق - رضي الله عنه - القبض والقيمة في الهبة لثبوت الملك".

(کتاب الهبة ،فصل فی شرائط رکن الهبة:ج، 6، ص:120، ط:سعید)

كفايت المفتي ميں هے:

(سوال):ایک عورت نے اپنے چند خاوند جو یکے بعد دیگرے بغیر دوسرے ورثاء شرعی  کو ترکہ دیئے کل ملکیت اپنے نواسہ کو رجسٹری ہبہ کردی یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب: عورت کو صرف اپنے حصے کے ہبہ کرنے کا حق تھا لیکن اگر موہوب میں دوسروں کے غیر منقسم حصے  بھی شامل ہیں، تویہ ہبہ مطلقاً ناجائز ہوا، نہ عورت کے حصوں میں صحیح ہوا  نہ تمام وارثوں كے حصوں میں۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی:

(کتاب الفرائض، ج:5، ص:359، ط:دار الاشاعت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144305100539

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں