بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوہ ، دو بیٹے اور ایک بیٹی کے درمیان میراث اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کی تقسیم کا طریقہ


سوال

1۔میرے والد کا انتقال 6/10/2021 میں  ہوا ، انتقال کے وقت ورثاء میں  بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، والد نے تین شادیاں کی تھیں، جن میں سے دو بیویوں کا انتقال والد کی حیات میں ہو گیا تھا ، ایک زندہ ہے، دادا دادی اور نانا نانی کا والد سے پہلے انتقال ہو گیا، والد کی جائداد کی تقسیم کیسے ہوگی؟

2۔کرایہ ورثاء میں  کس تناسب سے تقسیم ہوگا؟

3۔ فرسٹ فلور اور گراؤنڈ فلور جو کرایہ پر ہے ان میں کام وغیرہ نکلتا ہے یا خوبصورتی وغیرہ  کرانی پڑتی ہے، وہ صرف مجھ پر لازم ہے یا سب پر،  اگر سب پر لازم ہے تو کس حساب سے لازم ہوگی؟

4۔والد کا مکان چار سو گز کا ہے ، جس میں سے گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور کرایہ پر ہیں ، جب کہ سیکنڈ فلور پر میں اپنی فیملی اورسوتیلی  والدہ کے ساتھ رہتا ہوں، کسی نے کہا کہ آپ گھر میں بھی رہتے ہیں اور کرایہ بھی وصول کرتے ہیں تو میں نے اپنی جیب سے چالیس ہزار کرایہ کی مد میں ڈالے اور پھر گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور کی مینٹنس کی مد  میں پندرہ ہزار کاٹے ۔یعنی کرایہ کی مد میں پچیس ہزار جمع کرائے۔فی الحال گھر فروخت کرنے کا ارادہ نہیں ہے، جو ورثاء اس گھر میں رہیں گے ، ان پر کتنا کرایہ لازم ہوگا؟ 

5۔اگر گھر ورثاء آپس میں تقسیم کریں تو کس طرح تقسیم کریں؟

جواب

1۔صورتِ مسئولہ میں   سائل کے والدکےترکہ کی  شرعی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ   سائل کے والد مرحوم کے ترکہ   سے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچ نکالنے  کے بعد ، اگر مرحوم پر کوئی قرض   ہو تو اسے ادا کرنے کے بعد، اور   اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی مال  کے ایک تہائیمیں اسے نافذ کرنے کے بعد ،باقی متروکہ جائیداد منقولہ و غیر منقولہ  کے کل  40حصے کئے جائیں گے  ، جس میں سے  بیوہ کو  5حصے  ، ہر بیٹے کو 14 حصے   اور بیٹی کو 7 حصے  ملیں گے۔ 

صورت تقسیم یہ ہے :

میت : (والد) ، مسئلہ : 8 /40

بیوہبیٹابیٹابیٹی
17
514147

یعنی سو روپے میں سے مرحوم کی بیوہ کو  12.50روپے ، ہر بیٹے کو 35روپے اور بیٹی کو 17.50 روپے ملیں گے۔

2۔کرایہ بھی ورثاء کے درمیان اسی تناسب سے تقسیم ہوگا۔البتہ کسی وارث کا متروکہ  مکان میں یا مکان کے کسی حصے میں رہائش کی صورت میں مکان کے  کرایہ کی تقسیم کی تفصیل نمبر چار میں  آرہی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا) على ما هو الحق؛ فلو دفع المديون لأحدهما فللآخر الرجوع بنصف ما أخذ۔"

 (کتاب الشرکۃ:4/299،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"والربح في شركة الملك على قدر المال۔"

(مطلب فیما یبطل الشرکۃ:4/316،ط:سعید)

3۔جو کام وغیرہ نکلے گا، اس کا خرچہ سب  ورثاء پر  مذکورہ بالا تناسب سے  لازم ہوگا۔

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:

"المادة (1308) إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم۔"

(‌‌الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة‌‌، الفصل الأول: في بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى: 249، ط:نور محمد)

4۔اگر سائل اپنے اور اپنی سوتیلی والدہ کے حصے کے بقدر مکان میں رہ رہا ہےتو سائل پر کرایہ لازم نہیں ، البتہ اس کے علاوہ مکان کا جو کرایہ آئے گا،  وہ سائل اور اس کی سوتیلی والدہ کے علاوہ دیگر ورثاء میں تقسیم ہوگااور اگر سائل اپنے اور اپنی سوتیلی والدہ کے حصے سے زائد میں رہ  رہاہے  تو ابھی تک کا کرایہ لازم نہیں ہوگا، لیکن اس کے بعد اگر سائل اپنے اور اپنی والدہ  یا کوئی بھی وارث اپنے  حصے سے زائد میں رہے گا تو اس زائد حصے کا ورثاء کی باہمی رضامندی سے جو کرایہ طے ہو یا مارکیٹ ویلیو کے حساب سے جتنا کرایہ بنتا ہو ،دیگر ورثاء کو لینے کاحق حاصل ہوگا۔ 

السنن الكبرى ميں ہے:

"عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه."

(كتاب الغضب،باب من غصب لوحا فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا،6/166،رقم: 11545 ،ط: دار الكتب العلمية)

 الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"لو واحد من الشريكين سكن ... في الدار مدة مضت من الزمن‌فليس ‌للشريك أن يطالبه ... بأجرة السكنى ولا المطالبهبأنه يسكن من الأول ... لكنه إن كان في المستقبليطلب أن يهايئ الشريكا ... يجاب فافهم ودع التشكيكا

 (قوله: لو واحد من الشريكين سكن إلخ) قدمنا الكلام على هذه المسألة أول الباب قبيل شركة العقد (قوله: بأجرة السكنى) أي ولو معدا للاستغلال؛ لأنه سكن بتأويل ملك فلا أجر عليه۔"

(كتاب الشركة: 4 / 337، ط: سعید)

سائل نے متروکہ مکان کے  مینٹنس میں رقم  اگر ورثاء کی اجازت سے لگائی تھی تو  وہ سائل کو ملے گی، اور اگر بغیر اجازت کے لگائی تھی  تو  وہ  سائل کی طرف سے تبرع  اور احسان ہوگا۔

الدر المختار  میں ہے:

"من قام عن غيره بواجب بأمره رجع بما دفع وإن لم يشترطه كالأمر بالإنفاق عليه وبقضاء دينه إلا في مسائل أمره بتعويض عن هبته وبإطعام عن كفارته وبأداء عن زكاة ماله وبأن يهب فلانا عني ألفا في كل موضع يملك المدفوع إليه المال المدفوع إليه مقابلا بملك مال، فإن المأمور يرجع بلا شرط وإلا فلا ۔"

(کتاب الكفالة: 5 / 333، ط: سعید)

5۔اس طرح تقسیم کیا جائے کہ ہر وارث کو اس کا  شرعی حصہ مل جائے۔طریقہ تقسیم سوال نمبر ایک کے جواب میں دیکھ لیا جائے۔

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100275

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں