بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو القعدة 1441ھ- 15 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بیوی سے محبت نہ ہونے کی وجہ سے طلاق کا سوچنا


سوال

میری شادی کو تین سال ہوگئے ہیں،مجھے میری بیوی بالکل اچھی نہیں لگتی، اس کو دیکھنا  تک مجھے گوارا نہیں ہے، کیا اس بنیاد پر طلاق دینا جائز ہےکہ پسند نہ ہو؟ میں تو یہ سوچ کر طلاق کا سوچتا تک نہیں کہ اس کی زندگی تباہ ہو جائے گی، ہم گاؤں میں رہتے ہیں اور یہاں طلاق یافتہ لڑکی سے کوئی شادی نہیں کرتا، میں بہت پریشان ہوں، نہ اس کو خوش رکھ  پارہاہوں نہ میں خوش ہوں۔ میں نے ہر چیز کوشش کر کے دیکھ لی، مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں، اور یہ سوچ کے بھی طلاق نہیں دے سکتا کہ اس کی زندگی تباہ کر کے میں کبھی خوش نہیں رہ پاؤں گا!

جواب

طلاق شریعت میں سخت ناپسندیدہ عمل ہے،اور جیسا کہ آپ کو خود بھی یہ احساس ہے کہ کسی شرعی عذر کے بغیر طلاق دینا اور کسی کی زندگی خراب کرنا  آپ کا اپنا ضمیر بھی گوارا نہیں کرتا تو اس کے بارے میں سوچنا مناسب نہیں ہے۔

آپ کو چاہیے کہ اللہ سے مستقل دعا کرتے رہیں کہ اللہ آپس میں محبت  پیدا فرمادیں، قرآنِ کریم کی مندرجہ ذیل آیتِ مبارکہ کا ہر فرض نماز کے بعد  11بار ورد کرکے صدقِ دل سے دعا کیا کریں:

{وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ } [الأنفال: 63]

ضروری نہیں کہ ہر انسان میں ہر خوبی موجود ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ ہر انسان میں کچھ خوبیاں موجود ہوتی ہیں، زوجین کے درمیان عدمِ موافقت کی صورت میں اسی پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ اگر اس میں کوئی کمی یا عیب ہے تو اس میں بہت سی خوبیاں اور نفع کے پہلو بھی موجود ہیں، قرآنِ کریم میں عورتوں کی حق تلفی کی مذمت کرتے ہوئے اللہ پاک اسی پہلو کو اجاگر فرماتے ہیں:

{وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا } [النساء:19]

ترجمہ: ’’اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کیا کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں، تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے‘‘۔ (بیان القرآن) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111200173

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں