بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی طرف سے روزہ رکھنا


سوال

میں اپنی بیوی کے روزے رکھ سکتا ہوں جو رہ گئے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ روزہ بدنی عبادت ہے اور بدنی عبادت کا مقصد جسم کو اللہ کی عبادت میں لگانا ہے۔ اگر کسی نے فرض روزے چھوڑے ہوں تو اسے خود  ان روزوں کی قضا کرنے ہوگی؛ تاکہ بدنی عبادت کا مقصد فوت نہ ہو۔  البتہ  اگر کوئی شخص بیماری سے عاجز ہوکر روزہ نہ رکھ سکتا ہو اور مرنے سے پہلے اس کو صحت یابی کی امید بھی نہ ہو  تو شریعت نے اس کو  ایسی حالت میں زندگی میں، ورنہ مرنے کے بعد فدیہ دینے کی اجازت دی ہے اور زندگی میں روزوں کا فدیہ ادا کرنے کے بعد   اگر مرنے سے پہلے روزہ رکھنے کی طاقت حاصل ہوجائے  اور وقت بھی ملے تو ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہوگا اور فدیہ ادا کرنا باطل ہوجائے گا،   تو جس شخص کے بیماری یا کسی عذر کی وجہ سے روزے رہ گئے ہوں اور وہ مرتے دم تک ان کو ادا نہ کرسکا تو  اب وہ مرنے سے پہلے وصیت کرجائے، مرنے کے بعد اس کی وصیت کے مطابق ایک تہائی ترکہ میں سے اس کے روزوں کا فدیہ ادا کرنا ضروری ہوگا،  اگر اس نے وصیت نہ کی ہو اور تمام عاقل بالغ ورثاء اپنی خوشی مرحوم کی طرف سے فدیہ ادا کردیں تو یہ بھی جائز ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کی بیوی حیات ہے اور وہ ایسی بیماری ہے کہ موت سے پہلے صحت یابی کی امید نہ  ہو تو اسے فوت شدہ روزوں کا فدیہ دینے کی اجازت ہے اور اگر وہ وفات پاچکی ہے اور وصیت کی ہے  تو اس کے ایک تہائی ترکہ سے قضا روزوں کا فدیہ دینا لازم ہے اور اگر وصیت نہ کی ہو یا ایک تہائی وصیت سے تمام روزوں کا فدیہ نہ ہو تو اس کے ورثاء اپنی طرف سے فدیہ دے سکتے ہیں۔ تاہم آپ اپنی بیوی کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 72):

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة.
(قوله: وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها، وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله عليه الصلاة والسلام: «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه». وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد. مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت.
(قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك؛ لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك، إمداد.
ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعاً؛ لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات: إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة؛ لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطاً؛ لاحتمال كون النص فيه معلولاً بالعجز، فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولاً تكون الفدية براً مبتدأً يصلح ماحياً للسيئات، فكان فيها شبهة، كما إذا لم يوص بفدية الصوم، فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201093

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں