بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 محرم 1444ھ 10 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنا


سوال

میرے بیٹے کا نکاح میری بھتیجی سے ہوا، کچھ عرصہ حالات بہت خوش گوار گزر ے، لڑکی کے والدین گاؤں میں رہتے تھے تو لڑکی کا گاؤں جانا ہوتا تھا، ایک دفعہ گاؤں جانے پر لڑکی کو اس کی والدہ نے روک لیا اور واپس کراچی آنے نہیں دیا۔ مختلف مطالبات کر رہی تھی کہ لڑکے کو بھی ہمارے پاس بھیج دیں، پھر مطالبہ کیا کہ لڑکا اور لڑکی دونوں اسلام آباد میں رہیں گے، گاؤں میں ہمارا مکان تھا کہا کہ مکان اس لڑکی (ہماری بیٹی) کے نام کردو۔ 2017 سے لڑکی والدین کے پاس ہے اور اس کو ہمارے پاس نہیں بھیجا، بہت کوشش اور جرگوں کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اب مسئلہ یہ پوچھنا ہےہم بیٹے کے لیے دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں، ایوب خان کے دور میں اس نے یہ قانون پاس کیا، کہ دوسری شادی کرنے کی صورت میں پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری ہے؟کیا اس قانوں کے تحت ہم پر کوئی گناہ تو نہیں ہوگا کہ ہم پہلی بیوی سے پوچھے بغیر دوسری شادی کردیں بیٹے کی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں بیٹے کا پہلی بیوی کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر دوسری عورت سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ نکاح نامہ میں اجازت لینے کی شق موجود ہے اس لیے قانونی مشکلات سے بچنے کے لیے پہلی بیوی کو ایک طلاق رجعی دے کر پھر دوسری جگہ نکاح کرلے، نکاح کے بعد عدت گزر چکی ہو تو  دوبارہ نئے مہر کے  ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا جائز ہوگا اور دونوں میں عدل انصاف قائم کرنا ضروری ہوگا۔  

قرآن کریم میں ہے:

{فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ} [النِّسَآء:۴]

ترجمہ: اور عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں نکاح کرلو ،دو دو عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے۔ (بیان القرآن)

            حدیث شریف میں ہے:

"عن أبى هريرة عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل". 

( سنن أبي داود، كتاب النكاح، باب فى القسم بين النساء ۲/۲۹۷ ط:حقانية)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف مائل ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی ایک جانب  مائل (مفلوج) ہوگی۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100708

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں