بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر کو ہم بستری کرنے نہ دینا


سوال

میری شادی کو 30 سال ہوگئے ہیں، میرے 6 بچے ہیں، آخری بیٹا 14 سال کا ہوگیا ہے ان 14 سال کے دوران میں نے بیوی سے ہم بستری نہیں کی، میں چاہتا ہوں لیکن بیوی منع کرتی ہے کہ اب بچے نہیں چاہیے میں  کنڈم  استعمال کرنے کا کہتا ہوں پھر بھی بیوی ہم بستری نہیں کرتی،شوہر زبردستی اپنے بستر پر بیوی کو کھینچ  کر لاتا ہے اور ہم بستری کرنے کی کوشش کرتا ہے،  لیکن بیوی ہم بستری کرنے نہیں دیتی اور  دونوں آپس میں اپنے کپڑے جسم سے الگ الگ کر کے اوپر اوپر سے میں اپنی شہوت پوری کرتا ہے اور کبھی بیوی  عضو پکڑ ہاتھ سے فارغ کردیتی ہے،   لیکن 14 سال سے ہم بستری نہیں کرنے دیتی،  بیوی کے اس رویے سے شوہر کیا کرے، اور  اس سے دونوں کے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑا؟ شرعی گناہ گار کون ہے؟ شوہر کو بیوی کے ساتھ کیا معاملہ کرنا چاہیے؟ اور کیا باتیں سمجھائی جائیں؟ بیوی کی عمر 48 سال ہے اور شوہر کی عمر 50 سال ہے۔ 

جواب

واضح رہے کہ بیوی کی ذمہ شوہر کے ہر جائز اور مباح امر کی بقدر طاقت اطاعت واجب ہے، انہی کاموں میں سے  ایک یہ ہے کہ جب شوہر  اپنی طرف یعنی جماع کی طرف بلائے تو اس کی اطاعت کرے۔ احادیث میں   شوہر کے بلانے پر بیوی کے نہ جانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ مشکوٰۃ المصابیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:  "جب کسی مرد نےاپنی بیوی کو جماع کی طرف بلایا اور اس نے انکار کیا اور شوہر نے رات غصے میں گزاری تو فرشتے صبح تک اس بیوی پر لعنت بھیجتے ہیں" ۔

لہذا کسی مسلمان عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ  وہ اپنے شوہر کو بغیر کسی شرعی عذر کے قریب آنے نہ دے۔ 

مذکورہ صورت حال میں مرد کو چاہیے کہ بیوی کو حکمت کے ساتھ سمجھائے، اگر وہ پھر بھی قریب نہ آئے جب کہ اسے کوئی شرعی عذر بھی نہ ہو تو شوہر کو زبردستی اس سے صحبت کا حق حاصل ہوگا۔ اگر شوہر زبردستی نہ چاہے یا کامیاب نہ ہو تو اسے بیوی کی مناسب تادیب (سرزنش) کا بھی حق ہے اور چاہے تو دوسرا نکاح بھی کرسکتا ہے۔ 

مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح.»

(باب عشرة النساء، ص/280، ج/2، ط/قدیمی)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

(لعنتها الملائكة) : لأنها كانت مأمورة إلى طاعة زوجها في غير معصية قيل: والحيض ليس بعذر في الامتناع لأن له حقا في الاستمتاع بما فوق الإزار عند الجمهور.

(باب عشرۃ النساء، ص/2121، ج/5، ط/دار الفکر) 

فتاوی شامی میں ہے:

"   و حقّه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به.

(قوله: في كل مباح) ظاهره أنه عند الأمر به منه يكون واجبا عليها كأمر السلطان الرعية به." 

          (باب القسم، ص/۲۰۸، ج/۳، ط/قدیمی)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144303101018

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں