بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

عورت کا الگ گھر کے مطالبہ کا حکم / بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر میکے آنے جانے کا حکم


سوال

1:ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ اس گھر میں رہتی ہے کہ جہاں شوہر کے بوڑھے ماں باپ بھی رہتے ہیں، اور عورت کو اس گھر میں ایک الگ تھلگ کمرہ بھی ملا ہوا ہے، اس کے باوجود عورت اس بات پر مصر ہے کہ شوہر اسے دوسرے محلہ میں ایک ایسے گھر میں رکھے جہاں شوہر اور اس کے علاوہ کوئی بھی نہ ہو، حالاں کہ شوہر کی مالی استطاعت ایسی نہیں ہے،ایسی صورت میں کیا شوہر پر بیوی کے اس مطالبے کو پورا کرنالازم ہے؟

2:ایک شخص کی بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ہی بار بار اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاتی ہے، یہ بیوی گناہ گار ہے یا نہیں؟ اور اگر شوہر اسے روکے اور یہ کہے کہ اپنے ماں باپ کو میرےگھر ہی بلالو، تو شوہر کا یہ عمل درست ہے یانہیں؟

3:اگر کسی شخص کی بیوی اپنے شوہر سے اسمارٹ فون کا بار بار مطالبہ کرے اور شوہر اس کا یہ مطالبہ پورا نہ کرے تو شوہر گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

جواب

1:واضح رہے کہ مرد پر بیوی کو ایک کمرہ اس طرح علیحدہ کرکے دینالازم ہے کہ جس میں کسی اور کو اس کی اجازت کے بغیر آنے جانے کا اختیار نہ ہو، نیز ایک متوسط درجہ کا بیت الخلاء اور باورچی خانہ بھی عورت کے مطالبہ پر دینالازم ہے، پورا گھر اس طرح علیحدہ کرکے دینالازم نہیں ہے کہ جہاں شوہر کے کسی  رشتہ دار کی آمد ورفت نہ ہو۔

چناں چہ صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نےاپنے آبائی گھر میں بیوی کو ایک کمرہ اور باورچی خانہ بالکل اس طرح علیحدہ کرکے دے دیاہے کہ جس میں شوہر کے والدین کا عمل دخل نہیں ہوتا، تو بیوی کو دوسرے محلے میں ایک گھر کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، اور نہ ہی شوہر پر بیوی کا یہ مطالبہ پورا کرنالازم ہے۔

2:واضح رہے کہ  بیوی کےلیے شوہر کی اجازت کے بغیر گھرسے نکلناسوائے شدید مجبوری کی حالت کے جائز نہیں ہے؛ لہٰذاصورتِ مسئولہ میں بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیربار بار اپنے میکے آناجانا درست نہیں ہے، اور شوہر اگر اس کے اس عمل سے راضی نہیں ہے تو عورت گناہ گار بھی ہوگی، نیز اگر شوہر اس کو یہ کہہ رہا ہے کہ اپنے والدین کو میرے گھر ہی بلالو، تو شوہر کا ایسا کرنادرست ہے، تاہم شوہر کو یہ چاہیے کہ وقتاً فوقتاً بیوی کو اس کے والدین سے ملوانے کےلیے لے جاتا رہے۔

3:بصورتِ مسئولہ اگر شوہر عورت کےحقوقِ لازمہ یعنی نان ونفقہ جات اور دیگر حقوق پورے کررہا ہے تو وہ عورت کے اضافی مطالبات بشمول اسمارٹ فون کا مطالبہ پورا نہ کرنے پر گناہ گار نہیں ہوگا۔

حاشية ابن عابدين   میں ہے:

"(وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود.

(قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها ... قلت: وفي البدائع: ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اهـ فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار."

(ص:٥٩٩،ج:٣،کتاب الطلاق، باب النفقة، مطلب في مسكن الزوجة، ط: ایج ایم سعید)

وفيه ايضا:

"والذي ينبغي تحريره أن يكون له منعها عن كل عمل يؤدي إلى تنقيص حقه أو ضرره أو إلى خروجها من بيته أما العمل الذي لا ضرر له فيه فلا وجه لمنعها عنه خصوصا في حال غيبته من بيته، فإن ترك المرأة بلا عمل في بيتها يؤدي إلى وساوس النفس والشيطان أو الاشتغال بما لا يعني مع الأجانب والجيران."

(ص:٦٠٣،ج:٣،كتاب الطلاق،باب النفقة،ط: ايج ايم سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"الصحيح أنه لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهما من الدخول عليها في كل جمعة وفي غيرهما من المحارم في كل سنة وإنما يمنعهم من الكينونة عندها وعليه الفتوى كما في الخانية، وعن أبي يوسف في النوادر تقييد خروجها بأن لا يقدر على إتيانها فإن كانا يقدران على إتيانها لا تذهب وهو حسن فإن بعض النساء لا يشق عليها مع الأب الخروج، وقد يشق على الزوج فتمتنع، وقد اختار بعض المشايخ منعها من الخروج إليهما، وقد أشار إلى نقله في شرح المختار والحق الأخذ بقول أبي يوسف إذا كان الأبوان بالصفة التي ذكرت وإن لم يكونا كذلك ينبغي أن يؤذن لها في زيارتهما الحين بعد الحين على قدر متعارف أما في كل جمعة فبعيد فإن في كثرة الخروج فتح باب الفتنة خصوصا إذا كانت شابة والزوج من ذوي الهيئات بخلاف خروج الأبوين فإنه أيسر، ولو كان أبوها زمنا مثلا وهو يحتاج إلى خدمتها والزوج يمنعها من تعاهده فعليها أن تعصيه مسلما كان الأب أو كافرا، كذا في فتح القدير."

(ص:٢١٢،ج:٤،کتاب الطلاق، باب النفقة، ط: دار الكتاب الإسلامي)

الإختيار لتعليل المختار   میں ہے:

"قال: (وله أن يمنع أهلها وولدها من غيره الدخول عليها) لأن المنزل ملكه، (ولا يمنعهم كلامها والنظر إليها) أي وقت شاء لما فيه من قطيعة الرحم، ولا ضرر فيه إنما الضرر في المقام. وقيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين، وقيل يمنع (ولا يمنعهما من الدخول إليها كل جمعة وغيرهم من الأقارب كل سنة) وهو المختار."

(ص:٨،ج:٤،کتاب الطلاق،باب النفقة،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144507101649

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں