بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا اپنے شوہر کےلیے زیب و زینت کرنے کا حکم


سوال

کیا بیوی کا شوہر کی خواہش پر زیب و زینت کرنا، اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے فیشن ایبل لباس پہننا تقوی کے منافی ہے؟

جواب

اسراف اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے شوہر کےلیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے اچھا لباس پہننا  تقویٰ کے منافی نہیں ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

" وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ."

(سورۃ النور: 31)

ترجمہ:’’اور (اسی طرح) مسلمان عورتوں سے (بھی) کہہ دیجیے کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنی زینت (کے مواقع) کو ظاہر نہ کریں،  مگر جس اس (موقع زینت) میں سے (غالباً ) کھلا رہتا ہے، (جس کے ہر وقت چھپانے میں حرج ہے) اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں، اور اپنی زینت (کے مواقعہ مذکورہ) کو (کسی پر) ظاہر نہ ہونے دیں، مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے (محارم پر یعنی) باپ پر یا اپنے شوہر کے باپ پر یا اپنے بیٹوں پر یا اپنے شوہر کے بیٹوں پر  یا اپنے (حقیقی، علاتی یا اخیانی) بھائيوں پر یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں پر یا اپنی (حقیقی، علاتی اور اخیانی) بہنوں کے بیٹوں پر یا اپنی عورتوں پر  یا اپنی لونڈیوں پر یا ان مردوں پر جو طفیلی (کے طور پر رہتے) ہوں، اور ان کو ذرا توجہ نہ ہو، یا ایسے لڑکوں پر جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے ابھی ناواقف ہیں (مراد غیر مراہق ہیں)، اور اپنے پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے اور( مسلمانو ں تم سے جو ان احکام میں کوتاہی ہوگئی ہو تو) سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

(از : بیان القرآن، ج: 2، ص: 573، ط: مکتبہ رحمانیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406100546

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں