بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوی کے لیے وصیت کرنے کا حکم


سوال

میں اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد، مال وغیرہ اپنی بیوی کے  لیے وصیت کرنا چاہتا ہوں، میری صرف ایک بیٹی ہے،جو کہ شادی شدہ ہے،باقی  میرا بیٹا کوئی نہیں ہے، کیا میں یہ وصیت کر سکتا ہوں؟میرے بعد میری یہ وصیت کالعدم تو نہیں ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ ہر وارث کا حصہ شریعت نے خود مقرر کردیاہے، لہذا وارث کے حق میں وصیت شرعاً معتبراور نافذالعمل  نہیں  ہوتی ، الا یہ کہ باقی تمام عاقل بالغ ورثاءاُس وصیت پر  راضی ہوں،  تو وہ وصیت معتبر اور نافذ العمل ہو گی ورنہ باطل شمار ہو گی۔

لہذ ا صورت ِ مسئولہ میں بیوی  چوں کہ سائل کی شرعی وارث ہے،اب سائل اگر اپنی بیوی کے لئے وصیت کرنا چاہتا ہے،تو اُس وصیت پر سائل کی وفات کے بعد باقی ورثاء (سائل کی  بیٹی ، والدین،اور اگر والدین نہ ہوں تو سائل کے  بہن، بھائی ) اگر راضی ہوں تو یہ وصیت شرعاً معتبر ہو گی،اور اگر باقی ورثاء راضی نہ ہوں تو ایسی صورت میں بیوی کے لیے  کی جانے والی وصیت باطل شمار ہوگی،اور تمام   ورثاء کو  قانونِ وراثت کے مطابق ہی حصے ملیں گےاور  بیوی کو  صرف اُس کا شرعی حق و حصہ ہی ملے گا، باقی اگر سائل زندگی میں بیوی کو کچھ دے کر قبضہ دیدےگا تو وہ بیوی کا ہوگا۔

اور  اگر سائل اپنی آخرت کے   لیے کسی بھی صدقہ جاریہ کی  وصیت کرنا چاہے،تا کہ  آخرت میں سائل کے کام آئے، تو اپنے کل مال کے ایک تہائی تک کی وصیت کر سکتا ہے،یہ شرعاً درست اور واجب العمل ہو گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

)"و لا لوارثه و قاتله مباشرةً)  لا تسبيبًا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام: لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة يعني عند وجود وارث آخر."

(کتاب الوصایا،/6/ 655/،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية."

وفیہ ایضا :

"ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة."       

(کتاب الوصایا،ج:6،ص:90،ط:دار الفکر)

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 182):

"ثم تصح الوصية للأجنبي بالثلث من غير إجازة الوارث، و لاتجوز بما زاد على الثلث."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144307101011

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں