بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیٹی کا نام عمارہ یا ام عمارہ رکھنا


سوال

کیا بیٹی کا نام ام عمارہ یاصرف عمارہ رکھاجاسکتاہے؟

جواب

ام عمارہ ایک صحابیہ "نسیبۃ  المازنیۃ "کی کنیت ہے ،اس لیےبیٹی کا نام عمارہ یا ام عمارہ دونوں رکھنا جائز ہے ۔

صور من حیاۃ الصحابیات میں ہے:

"نسيبة المازنية:

«ما التفت يوم أحد يميناً ولا شمالاً إلا ورأيت أم عمارة تقاتل دوني» [محمد رسول الله] ... وعند «العقبة» في «منى» تم اللقاء الكبير في نجوة من قريش ... فلما تقدم اثنان وسبعون رجلاً من النبي صلوات الله وسلامه ... عليه ... ووضعوا أيديهم في يديه واحداً بعد آخر مبايعين على أن يمنعوه مما يمنعون منه نساءهم وأولادهم ... ولما انتهى الرجال من البيعة تقدمت امرأتان فبايعتا على ما بايع عليه الرجال ... ولكن من غير مصافحة ... ذلك؛ لأن الرسول عليه الصلاة والسلام لايصافح النساء. وقد كانت إحدى هاتين المرأتين تعرف بأم منيع  أما الأخرى فهي نسيبة بنت كعب المازنية المكناة بأم عمارة". 

(صور من حیاۃ الصحابیات، ص: 61-63، ط: دارالأدب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401101302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں