بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بستر کے اندر برہنہ سونا


سوال

اسلام میں برہنہ ہوکر سونے کی اجازت تو نہیں، اگر بندہ اپنے بستر کے اندر برہنہ ہوکر سوۓ  کہ بستر سے اس نے اپنے آپ کو اچھی طرح سے ڈھکا ہوا ہو،   کیا اس کی اجازت ہے؟  کیوں کہ سائنسی تحقیق یہ کہتی ہے کہ کپڑے اتار کر سونا انسانی صحت کے لیے اچھا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بالکل برہنہ ہوکر سونا شریعت میں پسندیدہ نہیں، اس لیے کہ حدیثِ  مبارک  میں ہے:

''حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ  کہتے  ہیں  کہ  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم برہنہ  ہونے سے اجتناب کرو( اگرچہ تنہائی کیوں نہ ہو)؛ کیوں کہ پاخانہ اور اپنی بیوی سے مجامعت کے اوقات کے علاوہ تمہارے  ساتھ  ہر وقت وہ فرشتے ہوتے ہیں جو تمہارے اعمال لکھنے پر مامور ہیں؛ لہذا تم ان فرشتوں سے حیا کرو اور ان کی تعظیم کرو ۔"

ایک اور  روایت میں ہے:

'' حضرت بہز بن حکیم اپنے والد حضرت حکیم سے اور وہ بہز کے دادا (حضرت معاویہ ابن حیدہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ”تم اپنا ستر چھپائے رکھو، علاوہ اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے (کہ ان کے سامنے اپنا ستر چھپانا ضروری نہیں ہے)۔ حضرت معاویہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتائیے کہ آدمی جب خلوت تنہائی میں ہو تو کیا وہاں بھی اپنا ستر چھپائے رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ لائق تر ہے کہ اس سے شرم کی جائے''۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)''

لہذا اگر  کوئی شخص ایسے کمرے میں سوئے  جہاں کسی غیر کی آمد رفت  بالکل نہ ہو، وہ تنہا یا صرف اس کی بیوی ساتھ ہو  تب بھی سوتے وقت بالکل برہنہ  ہوکر نہیں سوئے، البتہ اگر  (تنہا ہونے یا صرف بیوی کے ساتھ ہونے کی صورت میں) لباس اتار کر اوپر چادر اوڑھی ہو جس  سے ستر چھپا ہوا  تو  اس میں کراہت نہیں ہوگی،  لیکن اس صورت میں بہتر یہی ہے کہ شرم گاہ وغیرہ کو چھپانے کے لیے بقدرِ  ضرورت لباس پہن لیا کرے۔ 

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5 / 2056):

" (عن بهز بن حكيم) بفتح الموحدة وسكون الهاء بعده زاي (عن أبيه) أي حكيم (عن جده) أي جد بهز معاوية بن حيدة (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -) أي له (احفظ عورتك) أي من التكشف أو من الجماع والأول أبلغ (إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك) أي من الإماء وهذا يدل على أن الملك والنكاح يبيحان النظر إلى السوأتين من الجانبين والحديث مقتبس من قوله تعالى: {والذين هم لفروجهم حافظون  إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين} [المؤمنون: 5 - 6] (قلت: يا رسول الله أفرأيت) أي فأخبرني (إذا كان الرجل خاليا) كيف الحكم (قال فالله) أو ملائكته (أحق أن يستحيا منه) وهذا يدل على وجوب الستر في الخلوة إلا عند الضرورة كما سبق (رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه) وفي الجامع الصغير رواه أحمد والأربعة والبيهقي والحاكم ولفظ «احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك قيل إذا كان القوم بعضهم في بعض قال إن استطعت أن لا يرينها أحد فلا يرينها قيل إذا كان أحدنا خاليا قال الله أحق أن يستحيا منه من الناس»"

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144204200688

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں