بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

برتھ کنٹرول کی صورت اختیار کرنے کا حکم


سوال

کیا اسلام میں birth control اختیار کرنے کی اجازت ہے؟ واضح رہے کہ یہ رزق کی تنگی کے ڈر سے نہیں بلکہ کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر محدود مدت کے لیے ہے۔ اور اگر برتھ کنٹرول استعمال کی اجازت ہے تو اس کے کون سے طریقے صحیح ہیں ۔

جواب

واضح رہے نکاح سے مقصد اولاد کا حصول ہے،اور شریعتِ مطہرہ میں کثرت ِاولاد پسندیدہ ہے،احادیث مبارکہ میں زیادہ بچے جننےوالی عورت سے نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، لہذا مانع حمل ادویات و آلات کا استعمال بعض جزئی صورتوں کے علاوہ شرعا جائز نہیں اور خصوصاً رزق و وسائلِ معاش کے خوف کی وجہ سے تحدیدِ نسل اسلامی احکامات سے متصادم ہے، تاہم اگر بعض حالات میں عورت کو حمل کی وجہ سے بیماری یا غیر فطری طریقہ ولادت (آپریشن وغیرہ) کی ضرورت پڑتی ہو یا اس کے مثل دیگر ضرورت شدیدہ یعنی ماہر دین دار طبیب یہ مشورہ دے کہ فی الحال حمل کی صورت میں عورت کی جان کوخطرہ لاحق ہوسکتا ہے یا دودھ پلانے والی عورت کے دودھ میں خرابی پیدا ہوکر شیر خوار بچے کو نقصان ہوسکتا ہےیا کوئی اور معقول وجہ بیان کرے،تو اس صورت میں عارضی مانعِ حمل تدابیر خواہ وہ ادویات و آلات کی صورت میں ہو یا کوئی اور مانع کی صورت میں ہو جائز ہے، البتہ عورت کی تولیدی صلاحیت کو بالکلیہ ختم کر کے اس کو بانجھ کردینا یا محض بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت مشکل ہوجانے کے اندیشے سے  مانع حمل تدابیر اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔

صورت مسئولہ میں ذاتی وجوہات سے مراد اگر تمہید میں ذکر کی گئی وجوہات میں سے کوئی  ہے تو برتھ کنڑو ل کرنا جائز ہوگا اور اگر کوئی معقول وجہ نہیں ہے تو جائز نہیں ہوگا، لہذا اگر جائز وجہ کی بنا پر ہے  تو اس  کے لیے جو جائز طریقے عارضی صورت کے رائج  ہیں ان میں سے کسی بھی صورت کو اختیار کرسکتے ہیں۔

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں ہے:

"(وعن معقل بن يسار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌تزوجوا ‌الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم) أي: التي تكثر ولادتها، وقيد بهذين لأن الولود إذا لم تكن ودودا لم يرغب الزوج فيها، والودود إذا لم تكن ولودا لم يحصل المطلوب وهو تكثير الأمة بكثرة التوالد... أي: مفاخر بسببكم سائر الأمم لكثرة أتباعي."

(کتاب النکاح: 5/ 2047، ط: دار الفکر، بیروت)

البحر الرائق میں ہے:

"والإذن في ‌العزل عن الحرة لها ولا يباح بغيره لأنه حقها، وفي الخانية: ذكر في الكتاب أنه لا يباح بغير إذنها وقالوا في زماننا يباح لسوء الزمان قال في فتح القدير بعده فليعتبر مثله من الأعذار مسقطا لإذنها وأفاد وضع المسألة أن ‌العزل جائز بالإذن وهذا هو الصحيح عند عامة العلماء."

(كتاب النكاح، باب نكاح الرقيق: 3/ 214، ط: دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509100283

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں