بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1445ھ 17 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوٹی پارلر کی کمائی کا حکم


سوال

بیوٹی پارلر کی کمائی جائز ہے یا ناجائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر  بیوٹی پارلر میں شرعی شرائط کالحاظ رکھا جاتا ہو، مثلاً: وہاں کا ماحول غیر شرعی نہ ہو، مردوں سے اختلاط نہ ہو،  پردے کا اہتمام ہو، پارلر صرف عورتوں کی زیب و زینت کے لیے مختص ہو، کسی ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہو جیسے: عورتوں کے سر کے بالوں کا کاٹنا، غیر شرعی بھنویں بنوانا، اعضاءِ مستورہ کا کھلنا وغیرہ۔ تو ان شرائط  کے ساتھ بیوٹی پارلر کی اجازت ہوگی  اور اس کی کمائی حلال ہوگی۔

اور اگر بیوٹی پارلر میں غیر شرعی امور کا ارتکاب ہو تو اس کے بدلہ میں کمائی جانے والی رقم ناجائز ہوگی۔

اس مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے فتاوی بینات جلد چہارم ، ص:403 تا 407 ،طبع مکتبہ بینات بنوری ٹاؤن ملاحظہ فرمائیں۔

تکملہ فتح المنعم میں ہے:

"وأکثر ما تفعله النساء في الحواجب وأطراف الوجه ابتغاء للحسن والزینة فهو حرام بنص ھذا الحدیث".

(ج:4، ص:195، ط:دارالعلوم کراچی)

فتاوی شامی میں ہے:

"ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة وتحريم خضابه بالسواد على الأصح لقوله - عليه الصلاة والسلام - «غيروا هذا الشيب واجتنبوا السواد".

( كتاب الحظر و الإباحة ج:6، ص:756، ط:سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406100974

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں