بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک میں سونا پیسے وغیرہ رکھنے کا حکم


سوال

بینک میں سونا اور پیسے وغیرہ رکھنا جائز ہے یا حرام؟

جواب

واضح رہے کہ اپنی رقم  ہو یا کسی اور کی امانت رکھی ہوئی رقم ہو کسی بھی بینک کے منافع بخش  اکاؤنٹ میں رکھوانا جائز نہیں ہے  کیوں کہ اس  پر جو نفع ملتا ہے وہ سود  ہے، جو کہ ناجائز اور حرام ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بینک کے بغیر پیسوں کی   حفاظت ہو سکتی ہو تو بینک میں رقم نہ رکھی جائے اور اگر بینک کے بغیر حفاظت مشکل ہو تو حفاظت کی نیت سے کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھی جا سکتی ہے۔

البتہ  سونے کو حفاظت   کی خاطربینک کے لاکر میں رکھنا جائز ہے اور اس کی حفا ظت کے بدلہ میں بینک جو پیسہ  کرایہ کے طور پر  وصول کرے گاوہ پیسہ دینابھی  جائز ہےیہ سود کے زمرے میں نہیں آتا۔

درر الحکام میں ہے :

"لأن الثابت بالضرورة ‌يتقدر ‌بقدرها."

(باب الإعتکاف،ج:1،ص:213،داراحیاء الکتب العربیة)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(أما تفسيرها شرعًا) فهي عقد على المنافع بعوض، كذا في الهداية." 

(کتاب الإجارۃ،الباب الأول في تفسیرالإجارۃ،ج:4،ص:409،ط:مکتبه رشیدیه)

فقط والله تعالى أعلم 


فتوی نمبر : 144406100458

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں