بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بینک کو زمین یا کوئی اور چیز فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا


سوال

1۔میزان بینک (اسلامی بینک) یا کنویشنل بینک کو اپنی زمین فروخت کرنا یا کرایہ پردینا کیسا ہے؟

2۔بینک کو زمین کے علاوہ دیگر چیزیں مثلًا کرسیاں، اے سی وغیرہ فروخت کرنا کیسا ہے؟

3۔ایک تجارتی زمین میں تین لوگ شریک ہیں، اب دو شریک اس مشترکہ زمین کا ایک حصہ میزان بینک کو فروخت کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ایک شریک اس پر راضی نہیں ہورہا ہے، تو کیا میزان بینک کو زمین فروخت کرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

1۔واضح رہے کہ مروجہ اسلامی  بینکوں کا طریقِ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،  اوراسلامی بینک اور  روایتی بینک کے بہت سے  معاملات درحقیقت ایک جیسے ہیں، لہذا روایتی بینک کی طرح  کسی بھی مروجہ غیر سودی بینک کو بھی زمین فروخت کرنا   یا کرایہ پر دینا جائز نہیں، یہ گناہ کے کام میں تعاون کے زمرے میں آتا ہے، اس سے بچنا لازم ہے۔

2۔اگر خریدنے والا اس بات کی تصریح کردے کہ وہ یہ کرسیاں اور اے سی وغیرہ بینک کے لیے خرید رہا ہے، یا بیچنے والے کو پہلے سے معلوم ہو کہ یہ اشیاء بینک میں استعمال ہونے کے لیے خریدی جارہی ہیں اور رقم بھی بینک کی کہہ کر دیتا ہے  تو ایسی صورت میں بینک کےلئے  اِن چیزوں کا فروخت کرنا جائز نہیں ہے اور اگر خریدنے والا اس بات کی تصریح نہ کرےکہ وہ یہ اشیاء بینک کے لیے خریدرہا ہے اور نہ ہی بیچنے والے والے کو پہلے سے یہ معلوم ہو کہ یہ اشیاء بینک میں استعمال ہونے کے لیے خریدی جارہی ہیں تو ایسی صورت میں یہ اشیاء فروخت کرنا جائز ہے۔

3۔سوال نمبر 1 کے جواب سے واضح ہوچکا ہے کہ کسی بھی بینک کو زمین فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ تینوں پارٹنروں کے لیے اپنی مشترکہ زمین بینک فروخت کرنا ناجائز ہے، اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے:

"وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى  الْإِثْمِ وَالْعُدْوٰنِۚ وَٱتَّقُوْا اللّٰهَۖ إِنَّ اللّٰهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ." (سورةالمائدۃ: 2)

ترجمہ:"اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والے ہیں۔"

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"(وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الإثْمِ وَالْعُدْوَانِ)يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات، وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى، وينهاهم عن التناصر على الباطل."

(سورةالمائدۃ،12/2،ط: دار طیبة)

بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ میں ہے:

"وبيع العصير ممن يتخذه خمرا، ‌وبيع ‌الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريما، بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان؛ فإنه إن لم يعلم كان معذورا، وإن علم وصرح كان داخلا في الإعانة المحرمة وإن كان سببا بعيدا، بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالته الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فتكره تنزيها."

(أحكام الودائع المصرفية، ص: 361، ط: دار القلم)

وفیہ ایضًا:

"والقسم الثاني من السبب القريب، ما ليس بمحرك للمعصية في نفسه، بل تصدر المعصية بفعل فاعل مختار، مثل بيع ممن يتخذه خمرا، أو إجارة الدار لمن يتعبد فيها للأصنام، فإن هذا البيع أو الإجارة وإن كان سببا قريبا للمعصية، ولكنه ليس جالبا أو محركا للمعصية في نفسه … وحكم هذا النوع من السبب القريب أن البائع أو المؤجر إن قصد بذلك إعانة المشتري أو المستأجر على معصيته، فهو حرام قطعا. أما إذا لم ينو بذلك المعصية، فله حالتان: الحالة الأولى أنه لا يعلم أن المشتري يتخذ من العصير خمرا. وفي هذه الحالة يجوز البيع بلا كراهة. أما إذا علم أنه يتخذه خمرا، فإن البيع مكروه … فإن كان المبيع يستعمل للمعصية بعينه، من غير احتياج إلى تغيره، فالكراهة تحريمية، وإلا فهي تنزيهية."

(أحكام الودائع المصرفية، ص: 362، ط: دار القلم)

المحیط البرہانی میں ہے:

"وإذا استأجر الذمي من المسلم بيعة يصلَي فيها فإن ذلك لا يجوز؛ لأنه استأجرها ليصلي فيها وصلاة الذميّ معصية عندنا وطاعة في زعمه، وأي ذلك ما اعتبرنا كانت الإجارة باطلة ...... وإذا استأجر رجل من أهل الذمة مسلماً يضرب لهم الناقوس فإنه لا يجوز لما ذكرنا، وإذا استأجر مسلماً ليحمل له خمراً ولم يقل ليشرب، أو قال ليشرب جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما، وكذلك إذا استأجر الذمي بيتاً من مسلم ليبيع فيه الخمر، جازت الإجارة في قول أبي حنيفة خلافاً لهما."

(کتاب الإجارۃ، فصل في مایجوز من الإجارۃ ومالایجوز، 482/7، ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101868

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں