بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

بلی کا جوٹھا کھانے یا پینے کا حکم


سوال

بلی کا جھوٹا کھانا یا پینا کیسا ہے؟

جواب

بلی کا جوٹھا مکروہ ہے، دودھ سالن، گوشت وغیرہ میں  بلی نے منہ ڈال دیا تو اگر اللہ نے وسعت دی ہے تو اسے نہ کھائے اور اگر غریب آدمی ہو تو کھالے، غریب کے لیے اس میں کوئی حرج اور گناہ نہیں ہے، بلکہ ایسے شخص کے واسطے مکروہ بھی نہیں ہے۔

البتہ اگر بلی نے چوہا کھایا اور فوراً برتن میں منہ ڈال دیا تو وہ نجس ہوجائے گا، لیکن اگر چوہا کھانے کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر کر منہ ڈالے (یعنی اپنا منہ زبان سے چاٹ چکی ہو) تو نجس نہ ہوگا، بلکہ مکروہ ہی رہے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 223):

(و) سؤر (خنزير وكلب وسباع بهائم) ومنه الهرة البرية (وشارب خمر فور شربها) ولو شاربه طويلا لا يستوعبه اللسان فنجس ولو بعد زمان (وهرة فور أكل فأرة نجس) مغلظ. (و) سؤر هرة ... طاهر للضرورة (مكروه) تنزيها في الأصح 
 (قوله: فور أكل فأرة) فإن مكثت ساعة ولحست فمها فمكروه منية، ولا ينجس عندهما. وقال محمد: ينجس؛ لأن النجاسة لا تزول عنده إلا بالماء، وينبغي أن لا ينجس على قوله إذا غابت غيبة يجوز معها شربها من ماء كثير حلية (قوله: مغلظ) وفي رواية عن الثاني أن سؤر ما لايؤكل كبول ما يؤكل، والذي يظهر ترجيح الأول بحر. ... (قوله: طاهر للضرورة) بيان ذلك أن القياس في الهرة نجاسة سؤرها؛ لأنه مختلط بلعابها المتولد من لحمها النجس، لكن سقط حكم النجاسة اتفاقا بعلة الطواف المنصوصة بقوله صلى الله عليه وسلم إنها ليست بنجسة، إنها من الطوافين عليكم والطوافات " أخرجه أصحاب السنن الأربعة وغيرهم، وقال الترمذي حسن صحيح؛ يعني أنها تدخل المضايق ولازمه شدة المخالطة بحيث يتعذر صون الأواني منها، وفي معناها سواكن البيوت للعلة المذكورة، فسقط حكم النجاسة للضرورة وبقيت الكراهة لعدم تحاميها النجاسة."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں