بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بلاعذر نماز چھوڑنے کا حکم/ دعاء قنوت یاد نہ ہو، تو کیا پڑھے؟


سوال

1۔مجھ سےاکثر کارخانے میں کام سے دوران نماز میں کوتاہی ہو جاتی ہے اور رہ جاتی ہے، میں اکثر ایسا کرتا ہوں کہ ظہر کے ساتھ فجر پڑھ لیتا ہوں اور کبھی ظہر بھی نہ پڑھ سکوں، تو عصر کے بعد ظہر اور فجر کے فرض بھی پڑھ لیتا ہوں اور کبھی عشا کے بعد سارے دن کی قضاء نماز پڑھ لیتا ہوں، کیا یہ میرے لیے درست ہے؟

2۔میں نے آج ہی کارخانے میں نماز کے لیے  جگہ بنائی ہے، تو  اگر کسی وجہ سے نماز قضاء ہو جائے تو میں وہیں پڑھ لیا کروں؟

3۔ مجھے دعاءِ قنوت ابھی نہیں آتی، تو مجھے کسی نے بتایا کہ التحیات پڑھ لیا کرو، کیا یہ درست ہے؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں پانچوں وقت کی نماز اپنے  مقررہ  وقت پر پڑھنا ہر مسلمان عاقل بالغ مرد و عورت پر فرض ہے اور بغیر کسی عذر کے یا  بغیر کسی شدید مجبوری کے نماز کو اپنے وقت کے بعد پڑھنا ناجائز اور حرام ہے اور قرآن و حدیث میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں اور ایک حدیث میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ:" جس آدمی نے بغیر عذر کے دو نمازوں کو (ایک ہی وقت میں)جمع کیا(پڑھا) وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پہنچ چکا۔"

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ پر لازم ہے کہ ہر نماز کو اپنے وقت پر  پڑھنے کا اہتمام کریں اور نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں، جتنی بھی مصروفیات ہوں، اللہ تعالٰی کے حکم (جو کہ فرض ہے) کے آگے ہیچ ہیں، لہٰذا  آپ کا نمازوں  میں کوتاہی کرنا اور نماز کو اپنے وقت کے بعد دوسری نماز کے ساتھ پڑھنا کسی صورت جائز نہیں ہے، اب تک نماز کی ادائیگی میں جو  کوتاہیاں ہوئی ہیں، ان پر صدقِ دل سے اللہ کے حضور توبہ  واستغفار کریں اور آئندہ ہر نماز کو وقت پر پڑھنے کا عزم کریں۔

2۔ ہر مسلمان عاقل بالغ صحت مند مرد پر مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا واجب ہے، بلاعذر جماعت کو چھوڑنا جائز نہیں ہے، لہٰذا آپ کو چاہیے کہ ہر نماز اپنے اپنے وقت پر باجماعت پڑھنے کا اہتمام کریں، البتہ  اگر کسی شدید مجبوری کی صورت میں جماعت چھوٹ جائے، یا کوئی نماز قضاء ہوجائے اور اس نماز کا وقت نکل جائے، تو ایسی صورت میں  جو جگہ نماز کے لیے آپ نے کارخانے میں بنائی ہوئی ہے، وہاں پر یا کسی بھی پاک جگہ پرقضاء نماز کا لوٹانا جائز ہے۔

3۔جب تک دعاء قنوت یاد نہ ہوجائے، اس وقت تک مجبوری کی  بنا پر  کوئی بھی دعا جیسے: "اللهم اهدنا فيمن هديت" یا "ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار"پڑھ سکتے ہیں، اسی طرح اگر التحیات پڑھ لیں، تو یہ بھی درست ہے۔ لیکن دعائے قنوت جلد از جلد یاد کرلیں مستقل طور پر ان دعاؤں پر اکتفاء کرنا درست طریقہ نہیں۔

قرآن کریم میں ہے:

"إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَاباً مَوْقُوتاً."[النساء: 301]

سنن ترمذی میں ہے:

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌من ‌جمع ‌بين ‌الصلاتين من غير عذر فقد أتى بابا من أبواب الكبائر."

(أبواب الصلاة، ج:1، ص:259، ط:دار الغرب الإسلامي)

البحر الرائق میں ہے:

"(الجماعة ‌سنة ‌مؤكدة) أي قوية تشبه الواجب في القوة والراجح عند أهل المذهب الوجوب ونقله في البدائع عن عامة مشايخنا وذكر هو وغيره أن القائل منهم إنها مؤكدة ليس مخالفا في الحقيقة بل في العبارة؛ لأن السنة والواجب سواء خصوصا ما كان من شعائر الإسلام اهـ."

(کتاب الصلاة، ج:1، ص:352، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وليس في القنوت دعاء مؤقت. كذا في التبيين والأولى أن يقرأ " اللهم إنا نستعينك " ويقرأ بعده " اللهم اهدنا فيمن هديت " ومن لم يحسن القنوت يقول: {ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار} كذا في المحيط أو يقول: اللهم اغفر لنا ويكرر ذلك ثلاثا وهو اختيار أبي الليث. كذا في السراجية."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:111، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100654

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں