بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جمادى الاخرى 1441ھ- 24 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بلا تحقیق حدیث نبوی بیان کرنے والے کا شرعی حکم


سوال

یہ حدیث آج کل موبائل میسج پہ موصول ہورہی ہے، کیا یہ درست ہے ؟" جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک سےخون کےقطرے زمین پرگرنےلگےتواللہ تعالیٰ کو گوارا نہ ہواکہ اس کے حبیب کاخون زمین پرگرے تواللہ تعالیٰ نے احد کے میدان میں فوراً ایک گلاب کا پودا اگادیا، خون زمین کے بجائےگلاب پرگرا جس سے گلاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کی خوشبوآگئی"۔

جواب

اس مضمون کی کوئی صحیح یا ضعیف حدیث ذخیرہ احادیث میں ہمیں نہیں ملی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی قول یا فعل کی نسبت کرتے ہوئے جب تک یقین نہ ہو احتیاط لازم ہے ورنہ مسلمان جہنم کا ایندھن بن سکتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143101200533

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے