بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بجلی کے بل کی جگہ رشوت دینا


سوال

میری کولڈرنک کی دکان ہے،  ابھی گرمیاں ہمارے  ہاں شروع ہورہی ہیں، میں نے اپنی دوکان کھول دی،  اب مسئلہ یہ ہے کے مجھ  کو فریج وغیرہ چلانا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے  بجلی کا بل زیادہ آتا ہے، تو  کیا میں کسی واپڈا اہلکار کو  کچھ  پیسے دوں، اور اپنے لیے کوئی تار وغیرہ لگالوں تو  کیا یہ رشوت میں شمار ہوگا یا نہیں؟  قرآنِ کریم کا تو ارشاد ہے :  رشوت لینے والا شخص رشوت دینا والا شخص دونوں جہنمی ہیں ۔ کچھ  راہ نمائی فرمائیں!

جواب

مذکورہ صورت میں اگر  تار لگا کر اس کا بل حکومت کو نہیں دیں گے، اور قانون کی خلاف ورزی کریں گے،تو  بجلی کا تار لگانا ایک مستقل ناجائز  عمل ہے اگرچہ پیسے دیے بغیر کوئی یہ کام کردے، اور اگر رشوت بھی دیں تو یہ دوسرا گناہ ہے، آپ کے لیے پیسے دینا اور سرکاری اہل کار کے لیے لینا ناجائز ہوگا۔

واضح رہے کہ سوال میں مذکورہ وعید قرآنِ کریم کی آیت نہیں، بلکہ حدیثِ مبارک ہے، یعنی اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے، گو وہ بھی وحی کا درجہ رکھتاہے، لیکن قرآنِ پاک کا حصہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200924

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے