بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بہنوں کو حصہ نہ دینا


سوال

میں نے اپنے والد کے پیسوں سے 120 گز کا پلاٹ خریدا  اور اس کے بنانے میں  میں نے ذاتی خرچہ بھی کیا ،اس کےبعد اس پلاٹ کے متصل دوسرا پلاٹ 120 گز کا میں نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدا اور پھر ان دونوں پلاٹوں کو میں نے تقسیم کیا 80گز ایک بھائی کو دیا ،80 گز دوسرے بھائی کو دیا اور باقی 80 گز پر میں نے اپنے لیے مکان بنوایا  اور یہ مکان میں نے اس پلاٹ پر بنوایا جو میرا ذاتی تھا ،اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم نے والد کے پلاٹ میں  بہنوں کوحصہ نہیں دیا ہے اور والد کا جوپلاٹ تھا وہ  میرے دو بھائیوں کے پاس ہے اور اس پر ان کا گھر بناہوا ہے ،اور میں نے اپنے ذاتی پلاٹ پر جو گھر بنایا تھا تو میں نے اس کو بیچ کر دوسرا گھر خریدا ہے لہذااس صورت میں بہنوں کا حصہ کس کے ذمہ لاز م ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  والد کے متروکہ پلاٹ میں مرحوم والد کے تمام شرعی ورثاء بیٹے/بیٹیاں وغیرہ اپنے اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے حق دار تھے،زیر نظر مسئلہ میں بہنوں کومحروم کرنا سخت گناہ ہے اور میراث  کی تقسیم کے اس عمل میں سائل نے والد کے حصے سے بہنوں کو حصہ نہیں دیا بلکہ والد کی جگہ سائل نے دو بھائیوں میں تقسیم کردی  تو سائل بھی اس جرم اور گناہ میں برابر کا شریک ہے،ان  دونوں پر  لازم ہےکہ وہ والد کی متروکہ زمین کو شرعی میراث کے قانونی اعتبار سے تقسیم کرکے بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دیں  ورنہ آخرت میں دینا ہوگا،آخرت میں دینا بہت مشکل ہے،آخرت میں جنت سے محرومی ہوگی،الغرض سائل پر بھی لازم ہےکہ وہ  میراث کی شرعی تقسیم میں اپناکردار ادا کرے،سائل اس معاملہ میں بری الذمہ نہیں ہے۔

سنن الدارقطنی میں ہے :

عن أنس بن مالك , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ‌يحل ‌مال امرئ مسلم إلا بطيب نفسه»

(ج3 ص424 حدیث 2885 ط:بیروت لبنان)

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

وعن انسرضی اللہ عنہقال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ ۔ رواہ ابن ماجۃ

(کتاب الفرائض ج1 ص 272 ط: رحمانیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں