بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بہن کو صدقہ فطر دینا


سوال

کیا بندہ فطرانہ اپنی بہن کو دے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر بہن مستحق ہیں یعنی ان کی ان کی ملکیت میں   ساڑھے سات تولہ سونا یاساڑھے باون تولہ چاندی یا ضرورت سے زائد  نصاب   (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی) کے برابر  رقم نہ ہو ،یا کچھ سونا اور کچھ نقد رقم جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہوان کے پاس موجود نہ ہو، اور نہ ہی  ضرورت و استعمال سے زائد  اتنا سامان ہو جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے برابر بنتی ہے اور نہ  ہی  وہ سید  ، ہاشمی ہیں تو انہیں صدقہ فطر دینا جائز ہے۔البتہ اگر بہن زیرِ کفالت ہو تو فطرانہ کی رقم اسے خرچے کی مد میں دینا جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں واجب خرچ کے علاوہ فطرے کی رقم ادا کی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201778

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں