بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم


سوال

بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

 کسی بدعتی کے عقیدے میں اگر شرک نہ ہو تو اس   کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے۔ اگر صحیح العقیدہ امام کی اقتدا میں نماز کی ادائیگی کی صورت ہو تو مستقل بنیاد پر بدعتی کی اقتدا میں نماز نہیں ادا کرنی چاہیے،البتہ بوقت ضرورت نماز ادا کی جاسکتی ہے جماعت کا ثواب مل جائے گا، لیکن اگر صحیح العقیدہ امام کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کی صورت نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا تنہا نماز ادا کرنے سے بہتر ہے، نیز اس کی اقتدا میں پڑھی گئی نماز کے اعادے کا حکم نہیں ہے۔ تاہم نیک صالح متقی امام کی اقتدا میں نماز کا اجر اس سے حاصل نہیں ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"و یکره إمامة العبد ... و مبتدع، أي: صاحب بدعة، و هي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول ... لایکفر بها ... وإن کفر بها، فلایصح الاقتداء به أصلاً".

وفي الرد:(قوله:وهي اعتقادالخ ) عزا هذا التعریف في هامش الخزائن إلی الحافظ ابن حجر في شرح النخبة، ولایخفی أن الاعتقاد یشمل ما کان معه عمل أو لا؛ فإن من تدین بعمل لا بد أن یعتقده ..."الخ

(باب الامامة، ج:1، ص:560، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں