بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بیسی پر زکوۃ کا حکم


سوال

 میں نے ایک بیسی ڈالی ہوئی ہے، جو 20000 سے 600000 کی ہے. اور میں ملازمت کرتا ہوں ،اور ملازمت کے پیسوں سے بیسی ڈالی ہوئی ہے ،جس میں سے میں 18 بیسیاں بھر چکا ہوں جس کی قیمت 360000 بن رہی ہے اور ابھی 12 بیسیاں باقی ہیں اور ابھی تک مجھے بیسی ملی نہیں ہے ۔اس کے علاوہ مجھ پر قرض ہے 16000 کا تو کیا مجھ پر زکوۃ فرض ہے؟اور اگر فرض ہے تو میرے پاس پیسے نہیں زکوۃ نکالنے کے لیے تو زکوۃ کیسے ادا ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ بیسی کی حیثیت قرض کی ہے،قرض پر دی جانے والی رقم اگرنصاب کے برابر ہو تواس پر  زکوۃ لازم  ہو تی ہے ،البتہ اگر فوری انتظام نہ ہو تو یہ اختیار ہے کہ جب بی سی کی رقم مل جائے اس وقت زکاۃ ادا کردے۔بیسی  وصول ہونے کے بعداس مجموعی رقم میں سے جتنی قسطیں باقی ہوں گی، وہ سب چونکہ قرضہ ہیں، انہیں منہا کرکے بقیہ رقم کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔

نوٹ:ہر سال کی زکوۃالگ سے حساب لگا کرادا کرنا   ضروری ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب وخراج أو للعبد."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:261/260، ط: سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله وملك نصاب حولي فارغ عن الدين وحوائجه الأصلية نام، ولو تقديرا) ."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:218، ط: دار الكتاب الاسلامي)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وتجب الزكاة في الدين مع عدم القبض، وتجب في المدفون في البيت فثبت أن الزكاة وظيفة الملك والملك موجود فتجب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بالأداء للحال لعجزه عن الأداء لبعد يده عنه وهذا لا ينفي الوجوب كما في ابن السبيل."

(کتاب الزکاۃ، فصل الشرائط، ج:2 ص:9، ط:دار الکتب العلمیة.)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144408101857

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں