بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 محرم 1446ھ 20 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیع فسخ ہونے کی صورت میں ایڈوانس رقم واپس کرنا ضروری ہے


سوال

میرا ایک پلاٹ تھا ،جس کی قیمت 42 لاکھ روپے مقرر ہوئی، خریدار نے مجھے 2 لاکھ ایڈوانس دے دیا کہ ایک ماہ کے بعد آپ کو بقیہ پیسے دے کر رجسٹری کریں گے، اب خریدار نے لینے سے انکار کر دیا ، کیوں کہ پلاٹ کی قیمت گر کر 26 لاکھ پر پہنچ گئی ہے،راہ نمائی  فرمائیں اتنا نقصان کیا ہے، اب اس کا ایڈوانس ضبط ہو گایا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ بیع (خرید و فروخت )تام ہو چکی ہے ،اس لیے خریدار کو مذکورہ بیع   یکطرفہ فسخ كرنے  کا اختیار نہیں ہے ،لہذا سائل مذکورہ خرید و فروخت کو برقرار رکھنے اور  بقیہ پیسہ وصول کرنے کے لیے ہر قسم کی قوت( قانوناً چارہ جوئی )  کر سکتا ہے ،لیکن اگر وہ بیع کوختم كرنا چاہے  تو  دو لاکھ ایڈوانس رقم خریدار کو  واپس کرنا ضروری ہے ۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"وإذا حصل الإيجاب والقبول ‌لزم ‌البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية كذا في الهداية ولا يحتاج في تمام العقد إلى إجازة البائع بعد ذلك وبه قال العامة وهو الصحيح كذا في النهر الفائق"

(کتاب البیوع،ج:3،ص:8،ط:رشیدیہ)

مرقاة المفاتيح ميں هے:

"وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ‌العربان» . رواه مالك وأبو داود وابن ماجه. (وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده) أي ابن عمرو على ما في الجامع الصغير للسيوطي (قال نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن بيع ‌العربان) بضم فسكون فموحدة اسم لذلك الشيء المدفوع وكان بيع العرب. قال بعض الشراح: فيه ست لغات: عربان وأربان وعربون وأربون بضم الأول وسكون الثانية فيهن وفتح الأول في الأخيرين. قال الطيبي - رحمه الله - أي البيع الذي يكون فيه ‌العربان في النهاية هو أن يشتري السلعة ويدفع إلى صاحبها شيئا على أنه إن أمضى البيع حسب وإن لم يمض البيع كان لصاحب السلعة ولم يرتجعه المشتري، وهو بيع باطل عند الفقهاء لما فيه من الشروط والغرر، وأجازه أحمد وروى عن ابن عمر إجازته، وحديث النهي منقطع. (رواه مالك وأبو داود وابن ماجه) وكذا رواه أحمد۔"

(كتاب البيوع ،باب المنهي عنها من البيوع ،ج:5،ص:1936 ،ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503100182

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں