بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

مبیع بائع کے پاس ہلاک ہو جائے تو ضمان تاوان کس پر ہوگا؟


سوال

بائع نے رقم وصول کر کے جیسے ہی مبیع دینا چاہاتو  مبیع ہلاک ہو گی تو  ضمان  کس پر آ گا؟

جواب

واضح رہے کہ  اگر بیچی ہوئی  چیز كا قبضہ خریدار کو نہیں دیا گیا اور وہ  بیچنے والے کے پاس ہلاک ہوجاتی ہے تو  شرعًا وہ معاملہ ختم ہوجاتا ہے اور اس چیز کا نقصان وتاوان  بیچنے والے کے ذمہ  پر آتا ہے، اور اگر خریدار نےرقم ادا کی ہو تواس کو   واپس کرنا بھی ضروری ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ  میں اگر واقعۃً مبیع بائع کی قبضہ میں ہلاک ہوئی ہے تو اس کا ضمان بھی اس پر ہو گا، اور اگر مشتری نے مبیع کی قیمت ادا کر دی تھی تو  بائع پر اس کا واپس کرنا بھی لازم ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رجل اشترى بقرة، فقال للبائع: سقها إلى منزلك حتى أجيء خلفك إلى منزلك وأسوقها إلى منزلي، فماتت البقرة في يد البائع، فإنها تهلك من مال البائع، فإن ادعى البائع تسليم البقرة كان القول قول المشتري مع يمينه. اشترى دابة مريضة في إصطبل البائع، فقال المشتري: تكون هنا الليلة، فإن ماتت ماتت لي فهلكت، هلكت من مال البائع لا من مال المشتري كذا في فتاوى قاضي خان".

(كتاب البيوع، الباب الرابع في حبس المبيع بالثمن، الفصل الثاني في تسليم المبيع وفيما يكون قبضا وفيما لا يكون قبضا، ج: 3، صفحہ: 20، ط: دارالفکر)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے: 

"(هلاك المبيع) لأنها رفع البيع والأصل فيه المبيع ولهذا إذا هلك المبيع قبل القبض يبطل البيع بخلاف هلاك الثمن".

(كتاب البيوع، باب الإقالة، ج: 2، صفحہ: 73، ط: دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100496

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں