بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

دارالافتاء

 

بھتیجوں کو زکوۃ دینے کا حکم


سوال

میرا بھائی اپنی دکان کرتا ہے، تقریباً نصاب کے برابر  مال موجود ہے،  گزارہ بہت مشکل سے ہوتا ہے،  اس کے دو بچے بالغ ہیں اور بے روز گار  ہیں، کیا میں اپنی زکات ان بچوں کو دے سکتا ہوں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر مذکورہ افراد  (بھتیجے) مستحقِ  زکوۃ  ہیں ( یعنی مسلمان ہیں، غیرسید ہیں، غریب یعنی خود صاحبِ نصاب نہیں ہیں) تو مذکورہ افراد  کو زکوۃ دینا جائز ہے، بلکہ انہیں زکوۃ دینے میں صلہ رحمی کا بھی اجر ہوگا۔

واضح رہے کہ یہاں صاحبِ نصاب سے مراد وہ شخص ہے جس کی ملکیت میں ضرورت و استعمال سے زائد کسی بھی قسم کا اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی میں سے کسی ایک کی مالیت تک پہنچ جائے؛ لہٰذا ایسا شخص جو اتنے مال یا سامان کا مالک ہو وہ زکوٰۃ وصول نہیں کرسکتا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تفسیرها فهي تملیك المال من فقیر مسلم غیر هاشمي ولامولاہ بشرط قطع المنفعة عن المملك من کل وجه لله تعالی هذا في الشرع."

(کتاب الزکوۃ، الباب الاول فی تفسیرالزکوۃ،ج:1 ص:170،ط:مکتبه حقانیه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں