بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بھول کر سبحان ربی العظیم کی جگہ سبحان ربی الاعلی پڑھا تو کیا حکم ہے؟


سوال

اگر کوئی شخص بھول سے رکوع میں "سبحان ربی العظیم" کی جگہ "سبحان ربی الأعلیٰ  " پڑھے، کوئی مضائقہ تو نہیں؟

جواب

 رکوع میں "سبحان ربی العظیم " کے بجائے "سبحان ربی الاعلیٰ"  پڑھنے سے   سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا، اور نہ  نماز پر کوئی اثر پڑے گا، نماز درست ہوجائے گی، البتہ جان بوجھ کر ایسے نہیں کرنا چاہیے، تا کہ سنت کے خلاف نہ ہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(سننها) رفع اليدين للتحريمة ... و تكبير الركوع و تسبيحه ثلاثًا... و تكبير السجود والرفع، وكذا الرفع نفسه، وتسبيحه ثلاثًا."

(کتاب الصلاۃ، باب فی صفة الصلاۃ، ج:1،ص:72،ط:دار الفکر - بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509102164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں