بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بہنوں کو حصوں سے محروم رکھنا گناہ ہے


سوال

 میرے دادا کا انتقال میرے والد صاحب کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا جبکہ والد صاحب کی عمر تقریبا 14 یا 15 سال تھی ، دادا کی وفات کے بعد کے سب کام اور ذمہ داری میری پھوپھو پرآ گئی تھی،  میرے والد صاحب کا  کوئی  اور بھائی نہیں تھا،  اور نہ میرے دادا کا  کوئی بھائی تھا، میرے والد صاحب نے  اپنی تین بہنوں کی شادی کرائی۔

میرے دادا نے 42 بیگہ زمین چھوڑی، اس زمین میں سے میری پھوپھیوں کو کوئی حصہ نہیں دیا گیا،  اور نہ میری پھو پھیوں نے مطالبہ کیا،  ایسے ہی  میرے دادا اور میرے پر دادانے بھی  اپنی بہنوں کواس زمین میں سے کوئی حصہ نہیں دیا  تھا۔

سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب کی جو کمائی ہے وہ صرف اسی زمین سے ہے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے،  میرے والد صاحب حیات ہیں میری عمر 18 سال ہے  تو میرے لئے، میری امی اور بہنوں کے لئے  اس  زمین سے کھانا جائز ہے یا نہیں ؟

اگر جائز نہیں ہے تو پھر ہم اس زمین کے اندر کس کس کو  حصہ دیں؟

اس لیے کہ میرے دادا کی بہنیں اور پردادا کی بہنیں وفات پا چکی ہیں،  ایسے ہی میری پھوپھیوں  میں سے ایک پھوپھی بھی دنیا سے جا چکی  ہے البتہ ان کے ورثاء موجود ہیں تو مجھے اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے ؟

اپنے والدین کے ساتھ رہوں اور اسی زمین سے کھاتا رہوں یا کوئی کاروبار الگ کروں؟

جب کہ میں فی الحال طالب علم ہوں ۔

جواب

واضح رہے کہ میت کے انتقال کے وقت جو کچھ اس کی ملکیت میں ہو وہ اس کا ترکہ شمار ہوتا ہے اور میت کے انتقال کے بعد اس کے تمام شرعی ورثاء کا حق اس ترکہ سے وابستہ ہوجاتا ہے۔

کسی کا حق دبانے یا غصب کرنے پر احادیثِ مبارکہ میں  بڑی سخت  وعیدات وارد ہوئی ہیں، چنانچہ  حضرت سعید  بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

"جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین  بھی  از راہِ ظلم لے گا، قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی  زمین اس کے گلے میں   طوق  کے طور پرڈالی  جائے گی"۔

 ایک اور حدیث میں ہے:

"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔"

نیز  یہ بھی یاد رہے کہ اگر بھائی بہنوں سے جائیداد کی تقسیم سے قبل دست بردار ہونے کا کہیں تو یہ بھی درست نہیں ہے،تقسیمِ جائیداد سے پہلے کسی وارث کا اپنے شرعی حصہ سے بلا عوض دست بردار ہوجانا شرعاً معتبر نہیں ہے،  البتہ ترکہ تقسیم ہوجانے،اور  ہر ایک وارث کا  اپنے حصے پر قبضہ کرنے  کے بعد اپنا حصہ خوشی سے  جس کو دینا چاہے دے سکتا ہے ،  لیکن اگر بھائیوں ، یا خاندانی  یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے بہنوں سے ان کا حصہ معاف کرالیا جائے، یا بہنیں حصہ نہ ملنے پر خاندانی رواج یا بھائیوں کے دباؤ کی وجہ سے خاموش رہیں تو  ان کی یہ خاموشی اس نا انصافی پر راضی ہونے کی علامت نہیں، اور نہ ہی اس خاموشی کی وجہ سے  بھائیوں کے لیے ان کا حصہ  لینا اور انہیں محروم رکھنا حلال نہیں ہوگا۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»."

(باب الغصب والعاریة، ١ / ٢٥٤،  ط: قدیمی)

وفیه أیضاً: 

"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه."

( باب الوصایا، الفصل الثالث،  ١ / ٢٦٦، ط: قدیمی)

تکملۃ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

 "الإرث جبري لَايسْقط بالإسقاط".

( کتاب الدعوی، ٧ / ٥٠٥ ، ط :دار الفكر)

الأشباہ والنظائر لابن نجیم  میں ہے:

   "لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملْك لا يبطل بالترك".

(ما یقبل الاسقاط من الحقوق وما لا یقبله، ص: ٣٠٩/ط: قدیمی)

صورت مسئولہ میں چونکہ تاحال میت کا ترکہ تقسیم نہیں ہوا اور سائل کے پر دادا کے  ترکہ  کی زمین  کو ہی  ان کے اکلوتے بیٹے یعنی سائل کے داد  انے پھر ان کے بیٹے یعنی سائل کے والد نے   ذریعہ معاش بنا رکھا ہے، اور  اس سے جتنا پیسہ و جائیداد بنائی وہ سب پر دادا کا  ترکہ شمار  ہوگی، اورپر دادا سے لے کر اب تک جن   وارث بیٹیوں کو  نسل در نسل ان کا حصہ نہیں دیا  گیا  وہ اسی متروکہ جائیداد سے دینا واجب ہوگا۔

اور  مذکورہ ترکہ سے نسل در نسل بیٹوں نے جو  ذاتی ضروریات کے لئے رقم خرچ کی اگر  وارث بیٹیوں  کی  صریح رضامندی سے کی تھی  تو اس کا  ضمان نسل در نسل وارث بیٹوں پر   لازم نہ ہوگا،  البتہ اگر وارث بیٹیوں کی  اجازت کے بغیر رقم  اپنے ذاتی استعمال میں لائی ہو ، تو استعمال شدہ رقم واپس کی جائے گی  اس کے بعد کل ترکہ کو پر دادا کے بیٹے بیٹیوں میں  حصص شرعیہ کے تناسب سے   تقسیم کی جائے گی،  اور جو وارث وفات پاچکے ہوں تو ان کے شرعی وارثوں میں حصص شرعیہ کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا،   البتہ  ترکہ سے فائدہ اٹھانے والے افراد کے پاس اگر نقدی نہ ہو تو ایسی صورت میں ترکہ کی 42 بیگہ زمین اور جو کچھ اس زمین سے مزید بنایا ہو اس  کی موجودہ قیمت کو تمام ورثاء میں نسل در نسل حصص شرعیہ کے تناسب سے  تقسیم  کرنے کے بعد استعمال شدہ رقم  خرچ کرنے والے وارث  کے حصہ سے منہا کر دی جائے۔

پس اگر ہر ایک کا حصہ معلوم کرنا مقصود ہو تو پر دادا کی تمام اولاد کی تفصیل  مع ان کی وفات کی ترتیب  اور ہر فوت شدہ وارث کے ورثاء کی تفصیل اور اگر ان میں بھی کوئی وفات پاچکا ہو، تو اس کی وفات کی ترتیب مع ورثاء کی تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کردیا جائے۔

مذکورہ 42 بیگہ زمین میں چونکہ سائل کے والد کا بھی حق ہے، لہذا اگر وہ اپنے حق سے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہوں ، تو  سائل و دیگر بھائی بہنوں اور والدہ کے لئے اس میں سے کھانا جائز ہوگا، البتہ  بصورت دیگر سائل کے پاس اگر کوئی آمدنی کا ذریعہ ہو تو اس میں سے اپنے اخراجات کا انتظام کر لیا جائے،توبهتر هو گا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"الوقت الذي يجري فيه الإرث... وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث... ما يستحق به الإرث وما يحرم به : وأما ما يستحق به الإرث وما يحرم به فنقول ما يستحق به الإرث شيئان النسب والسبب فالنسب على ثلاثة أنواع المنتسبون إليه وهم الأولاد والمنتسب هو إليهم وهم الآباء والأمهات والسبب وهم الأخوات والأعمام والعمات وغير ذلك والسبب ضربان زوجية وولاء والولاء نوعان ولاء عتاقة وولاء الموالاة وفي النوعين من الولاء يرث الأعلى من الأسفل ولا يرث الأسفل من الأعلى هذا بيان جملة ما يستحق به الإرث."

( كتاب الفرائض، ٨ / ٥٥٧، ط: دار الكتاب الإسلامي)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو حق للمورث على ما قال «- عليه الصلاة والسلام - من ترك مالا أو حقا فهو لورثته» ولم يوجد شيء من ذلك فلا يورث ولا يجري فيه التداخل؛ لما ذكرنا، والله - سبحانه وتعالى - أعلم."

( كتاب الحدود، فصل في بيان صفات الحدود، ٧ / ٥٧، ط: دار الكتب العلمية)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"(المادة : ١٠٧٣ ) - (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسب."

( الكتاب العاشر الشركات، الباب الأول في بيان شركة الملك، الفصل الثاني في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، ٣ / ٢٦ ، ط: دار الجيل)

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام میں ہے:

"[ (المادة ٩٧) لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي]

لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده» فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا؛ لأن اللعب في السرقة جد فعلى ذلك يجب أن ترد اللقطة التي تؤخذ بقصد امتلاكها أو المال الذي يؤخذ رشوة أو سرقة أو غصبا لصاحبها عينا إذا كانت موجودة وبدلا فيما إذا استهلكت."

( المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، ١ / ٩٨، ط: دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201201045

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں