بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوہ،ایک بیٹےاورایک بیٹی کےدرمیان میراث کی تقسیم


سوال

 کچھ عرصہ قبل میرے والد صاحب کا انتقال ہوا،اور مرحوم کےورثاء میں بیوہ ،ایک بیٹااورایک بیٹی ہیں ،اورمرحوم کی میراث میں صرف پچیس لاکھ رقم ہے،اب سوال یہ ہےکہ ہروارث کومذکورہ رقم میں سےکتنی رقم ملےگی؟

جواب

   صورتِ مسئولہ میں سائل کےمرحوم (والد)کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کے اِخراجات نکالنے کےبعد اگرمرحوم پر کوئی قرضہ ہوتواسےادا کرنےکےبعد اگرمرحوم نےکوئی جائز وصیت کی ہو تواسے ایک تہائی مال میں نافذ کرنےکےبعدباقی کل منقولہ اورغیرمنقولہ ترکہ کوکل24حصوں میں تقسیم کرکےمرحوم کی بیوہ کو3حصے،اوربیٹےکو14حصے،اوربیٹی کو7حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

والد(مرحوم):8/ 24

بیوہبیٹابیٹی
17
3147

یعنی 25لاکھ رقم میں سے مرحوم کی بیوہ کو312500،اوربیٹےکو1458333.33،اوربیٹی کو729166.66رقم ملے گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں