بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کی زندگی میں والد فوت ہوجائے تو کیا بیٹے کو اُن کے ترکہ میں حصہ ملے گا؟


سوال

 اگر بیٹے کی زندگی میں والد فوت ہوجائےاوراُس نےاپنی زندگی میں اپنی جائید اد  تقسیم  نہیں کی ہواور اُس کی جائیداد ابھی اُس کے بھائیوں کے ہاتھ میں ہو توکیابیٹےکو اُس میں سے حصہ ملےگایانہیں؟

جواب

واضح رہے کہ میت کے بیٹے کی موجود گی میں اُس کے بھائیوں کامیراث میں کوئی حصہ نہیں ہوتا،لہٰذا اگر کوئی شخص انتقال کرجائے اور اُس کا بیٹا زندہ ہو تو اُ س کے بھائی وارث نہیں ہوں گے،مرحوم  کی میراث میں بیٹے (اور دیگر ورثاء اگرہوں)کا حصہ ہوگا۔

تفسیرِ مظہری میں ہے:

"(يُوصِيكُمُ اللَّهُ) يأمركم ويعهد إليكم (فِي) شأن ميراث (أَوْلادِكُمْ) وجاز أن يكون في بمعنى اللام كما في قوله عليه السّلام :"دخلت امراة النار في هرة "،وهذا إجمال تفصيله (لِلذَّكَرِ) منهم (مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ) منهن إذا اجتمع الصنفان،يعني إن كان مع الأنثيين أو أكثر ذكر واحد أوأكثر يعطى لكل واحد منهم مثل حظ الثنتين منهن".

(سورة النساء، آية: 11، 23/2، ط: رشيدية)

سراجی میں ہے:

"أولاهم بالميراث جزء الميت أي البنون ثم بنوهم وإن سفلوا ،ثم أصله أي الأب ثم الجدأي أب الأب وإن علا،ثم جزء أبيه أي الإخوة......إلخ".

(باب العصبات، ص: 36، ط: مكتبة البشرٰى)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100733

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں