بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 ربیع الاول 1444ھ 28 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

بھینسے کی قربانی کا حکم


سوال

كيا بھینسے (کٹا)کی قربانی ہو جاتی  ہے  اور جو سورہ انعام میں چار نر اور مادہ کا ذکر ہے وہ کس لیے ہے؟

جواب

     واضح رہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہاء، مفسرین وائمہ کرام   کے نزدیک بھینس ‘ گائے کی نوع میں شامل ہے اور اس وجہ سے اس کی قربانی بھی درست ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے:’’أُحِلَّتْ لَکُمْ بھیمة الْأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلٰى عَلَیْکُمْ  الخ۔‘‘ (المائدہ:1)اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:

’’پالتو جانور جیسے اونٹ، گائے، بھینس، بکری وغیرہ جن کی آٹھ قسمیں سورۂ انعام میں بیان فرمائی گئی ہیں ان کو  ’’  أَنْعَام ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس جملہ میں اُس خاص معاہدہ کا بیان آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اونٹ، بکری، گائے، بھینس وغیرہ کو حلال کردیا ہے، ان کو شرعی قاعدہ کے موافق ذبح کرکے کھا سکتے ہیں۔‘‘(معارف القرآن، ج:۳،ص:۱۳)     تمام علماء کا اس مسئلہ میں اجماع ہے کہ سب ’’بہیمۃ الأنعام‘‘ (چرنے چگنے والے چوپایوں) کی قربانی جائز ہے، کم از کم بھینس کی قربانی میں کوئی شک نہیں ہے۔     نیز جہاں قرآن مجید میں حرام چیزوں کی فہرست دی ہے، وہاں یہ الفاظ ہیں:’’قُلْ لاَّ أَجِدُ فِيْ مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗ إِلَّا أَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَتًا أَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا۔

لہٰذا  بھینس چوپایہ جانوروں میں سے ہے اور ’’بقر‘‘ (گائے)  کی جنس میں داخل  ہے اور گائے کی قربانی جائز ہے اس لیے بھینس کی قربانی بھی جائز ودرست ہے۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(أما جنسه) : فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة: الغنم أو الإبل أو البقر، ويدخل في كل جنس نوعه، والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك، والمعز نوع من الغنم والجاموس نوع من البقر، ولا يجوز في الأضاحي شيء من الوحشي."

(کتاب الأضحیة، الباب الخامس في بیان  محل إقامة الواجب، ج:۵، ص:۲۹۷، دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144310101115

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں