بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بھینس کے بچے (کٹے) کی قربانی کرنے کا حکم


سوال

کیابھینس کے بچے کی قربانی کرسکتےہیں،  جسے ہم کٹّا کہتے ہیں؟

جواب

بھینس اور بھینسا، گائے ہی کی ایک قسم ہے، اور گائے کی قربانی کا ذکر احادیثِ  مبارکہ میں صریح لفظوں میں ملتا ہے، لہذا بھینسے، بھینس اور بھینس کے دو سالہ بچے  کی قربانی بھی جائز  ہے، دو سال سے کم عمر کے کٹّے کی قربانی (عمر کم ہونے کی وجہ سے) درست نہیں ہوگی۔

الفتاوى الهندية (5/ 297):

"(الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب) وهذا الباب مشتمل على بيان جنس الواجب ونوعه وسنه، وقدره وصفته. (أما جنسه) : فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة: الغنم أو الإبل أو البقر، ويدخل في كل جنس نوعه، والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لإطلاق اسم الجنس على ذلك. والمعز نوع من الغنم. والجاموس نوع من البقر".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے :

" أما جنسه فهو أن يكون من الأجناس الثلاثة الغنم أو الإبل أو البقر، ويدخل في كل جنس نوعه والذكر والأنثى منه والخصي والفحل لانطلاق اسم الجنس على ذلك، والمعز نوع من الغنم، والجاموس نوع من البقر بدليل أنه يضم ذلك إلى الغنم والبقر في باب الزكاة ".

(ج:5، ص:69، ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) صح (الثني) فصاعدًا من الثلاثة والثني (هو ابن خمس من الإبل، وحولين من البقر والجاموس، وحول من الشاة) والمعز والمتولد بين الأهلي، والوحشي يتبع الأم قاله المصنف.

(قوله: والجاموس) نوع من البقر، وكذا المعز نوع من الغنم بدليل ضمّها في الزكاة، بدائع".

(کتاب الاضحیۃ ج نمبر ۶ ص نمبر ۳۲۲،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں