بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بھائی کو صدقہ فطر دینا


سوال

کیا میں اپنے بھائی کو صدقہ فطر دے سکتا ہوں؟ جو غریب ہو اور بے روزگار بھی ہو۔لیکن ہمارے ساتھ ایک ہی گھر میں اکھٹے رہ رہا ہو اور کھانے پینے میں ہمارے ساتھ شریک ہو، تاہم کمائی ہر ایک کی جدا جدا ہے۔اس صورت میں ان کو صدقہ فطر دینا جائز ہے؟

جواب

اگر آپ کا بھائی مستحقِ زکاۃ ہے تو اسے آپ  صدقہ فطر دے سکتے ہیں۔

مستحق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کےپاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا  ضرورت و استعمال سے زائد اس مالیت کا  کسی قسم کا ما ل یا سامان موجود  نہ ہو  اور آپ لوگ سید/ عباسی نہ ہوں۔

اگر آپ کا کھانا پینا ایک ساتھ ہے اور وہ بھائی وہ فطرانہ کی رقم مشترکہ استعمال کرے  جس سے آپ کا بھی فائدہ ہو تو اس میں کراہت ہوگی، لہذا ایسی صورت میں اسے بتادیا جائے کہ فطرانے کی رقم وہ خود استعمال کرے، مشترکہ خرچ میں شامل نہ کرے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109201574

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں