بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

بھائی اگر بہنوں کی شادی کرائے تو کیا بھائی میراث میں بہنوں کا حق لے سکتا ہے؟


سوال

میرے دادا کی بہنیں تھیں ،جو کہ اب فوت ہو گئیں  ہیں، ان کی شادیاں ہونے کے بہت عرصہ بعد میرے دادا  یعنی ان کے بھائی نے اپنی بہنوں کو گھر بلایا  اور میراث تقسیم کے بارے میں پوچھا،جس کے جواب میں دادا کی بہنوں نے کہا کہ آپ ہمارے اکلوتے بھائی ہو ،ہم آپ سے اپنی میراث نہیں لیتے ،یہ باقاعدہ  پیپر پر لکھ کر دے دیا،جن میں 5 گواہان موجود تھے۔

اب ان بہنوں میں سے ایک بہن کے پوتے اٹھ کر دعوی کرتےہیں کہ ہمیں ہمارا حصہ دیں۔

آپ سے سوال یہ ہے کہ دادا کابہنوں  کی شادیاں کروانے،پھر خود ان کے معاف کر کے لکھ دینے کے بعد، اب ان بہنوں کے پوتوں کا حق بنتا ہے یا نہیں ؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سائل کے دادا اور ان کی بہنو ں میں  اگر  یہ معاہدہ ہوا تھا کہ سائل کے دادا بہنوں کی شادی کرائیں گے یا کچھ رقم دے کر ان سے میراث میں حق معاف کرایا تھا ٗتو سائل کے دادا کی بہنوں کا حق ساقط ہوچکا اوردادا کی  مذکورہ بہن  کے پوتے کا حصے کا مطالبہ درست نہیں،لیکن اگر اس طرح کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا ٗتو سائل کے دادا کا اپنی بہنوں کی شادی کرانا احسان اور تبرع شمار ہوگا ،جس کا انہیں آخرت میں ثواب ملے گا ،جب کہ بہنوں کا میراث میں اپنا حق  معاف کرنے سے حق ساقط نہیں ہوگا اور مذکورہ بہن کے پوتے کاحق کا مطالبہ درست ہے،بہنوں نے جو میراث نہ لینے کا معاہدہ نامہ لکھا تھاشرعاً اس کا اعتبار نہیں ،ہاں اگر میراث تقسیم کرنے کے بعد بہنیں اپنا اپنا حصہ بھائی کو دے دیتیں ،پھر بھائی مالک ہو جاتا حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔

تکملہ رد المحتار میں ہے:

"‌الارث جبري ‌لا ‌يسقط بالاسقاط."

(‌‌كتاب الدعوى،‌‌باب التحالف،ج8،ص116،:سعید)

غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر میں ہے :

"قال الجرجاني في الخزانة قال العباس الناطفي: رأيت بخط بعض مشايخنا رحمه الله في رجل جعل لأحد بنيه دارا بنصيبه على ‌أن ‌لا ‌يكون ‌له ‌بعد ‌موت ‌الأب ‌ميراث، جاز، وأفتى به الفقيه أبو جعفر."

(كتاب الفرائض،ج286ص،3،ط: دار الكتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں