بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بھائی کو زکوۃ دینا اور پھر اس رقم کا والدین پر خرچ ہونا


سوال

 میں نے زکوۃ کی رقم اپنے بھائی کو دی جس نے اپنے گھر میں ہی استعمال میں لانی ہے. وہیں میرے والدین بھی رہتے ہیں. اگر وہ زکوٰۃ کی رقم میرا بھائی والدین پر خرچ کرے تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گا؟ میں الگ رہتا ہوں جب کہ والدین بھائی کے ساتھ رہتے ہیں.

جواب

اگر آپ کے بھائی  مستحقِ زکاۃ ہیں تو انہیں زکاۃ کی رقم دی جاسکتی ہے۔  مستحق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ  ان کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا ضرورت سے زائد اتنا مال یا سامان نہیں ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو، نیزآپ  سید/عباسی بھی نہ ہوں۔قریبی رشتہ دار اگر مستحق ہو تو اسے زکاۃ  دینا زیادہ ثواب کا باعث ہوگا، زکاۃ کی ادائیگی کا ثواب الگ اور صلہ رحمی کرنے کا ثواب الگ۔

بھائی مالک بننے کے بعد جب اس رقم کو اپنی مرضی کے مطابق حسب ضرورت اپنے گھر میں خرچ کرتے ہیں اور والدین بھی ان کے ساتھ رہتے ہیں تو اس سے آپ کی زکوۃ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

نیز اگر والدین مالی مددکے محتاج ہوں تو ان کے اخراجات کی ذمہ داری بالغ اولاد پر عائد ہوتی ہے،  ایسی صورت میں اولاد پر زکوۃ  و صدقات واجبہ کی رقم کے علاوہ سے ان کے ساتھ تعاون کرنا لازم ہے، والدین کو اپنی زکات دینا جائز نہیں ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (2 / 262)

" قوله ( وأصله وإن علا وفرعه وإن سفل ) بالجر أي لا يجوز الدفع إلى أبيه وجده وإن علا ولا إلى ولده وولد ولده وإن سفل لأن المنفعة لم تنقطع عن المملك ( ( ( الملك ) ) ) من كل وجه كما قدمه في تعريف الزكاة لأن الواجب عليه الإخراج عن ملكه رقبة ومنفعة ولم يوجد في الأصول والفروع الإخراج عن ملكه منفعة وإن وجد رقبة وفي عبده وجد الإخراج منفعة لا رقبة  كذا في المستصفى  وفيه إشارة إلى أن هذا الحكم لا يخص الزكاة بل كل صدقة واجبة لا يجوز دفعها لهم كأحد الزوجين كالكفارات وصدقة الفطر والنذور  وقيد بأصله وفرعه لأن من سواهم من القرابة يجوز الدفع لهم وهو أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة كالإخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء ولهذا قال في الفتاوى الظهيرية ويبدأ ( ( ( يبدأ ) ) ) في الصدقات بالأقارب ثم الموالي ثم الجيران"۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (2 / 346):

"  فرع يكره أن يحتال في صرف الزكاة إلى والديه المعسرين بأن تصدق بها على فقير ثم صرفها الفقير إليهما كما في القنية    قال في شرح الوهبانية وهي شهيرة مذكورة في غالب الكتب"۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201294

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں