بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 محرم 1446ھ 24 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس سے دوبارہ نکاح کرنے کا حکم


سوال

میں نے اپنے بیوی کو 5 سال پہلے طلاق دے دی تھی،اب تک نہ انہوں نے  دوسری شادی کی اور نہ میں نے دوسری شادی کی،اب ہم دوبارہ سے ساتھ رہنا چاہتے ہیں،حلالہ کیسے ہوگا،شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

سائل نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس نے اپنی بیوی کو کتنی طلاقیں دی تھیں، اگر یہ وضاحت کردیتے تو حکم بھی متعینہ طور پر بیان کیا جاتا۔

بہرحال واضح رہے کہ جس عورت کو طلاق مغلظہ یعنی تین طلاقیں واقع ہوجائیں تو قرآن کریم اور احادیث مقدسہ کی رو سے اس عورت کا اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح اس وقت  جائز ہے، جب پہلے شوہر کی عدت گزرجانے کے بعد اس عورت کا   کسی اور مرد سے دوسرا نکاح  ہو جائے، اور اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا  کی جائے، پھر وہ طلاق یا  خلع دے یا مر جائے،تو  پھر عورت عدت گزارے، اس کے بعد وہ عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے،اس کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں،لہذا سائل نےاگر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں،تو اس کا شرعی حکم وہی ہے،جوکہ اوپر مذکورہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ."(البقرۃ)

ترجمہ: پھر اگر شوہر (تیسری) طلاق دیدے تو وہ (مطلقہ عورت) اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے.

صحیح البخاری میں ہے:

"عن ابن شهاب قال: أخبرني عروة بن الزبير:أن عائشة أخبرته: ‌أن ‌امرأة ‌رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إن رفاعة طلقني فبت طلاقي، وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي، وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا، حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته)."

(كتاب الطلاق، باب: من أجاز طلاق الثلاث، ج:5، ص:2014، ط: (دار ابن كثير، دار اليمامة) - دمشق)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية."

(کتاب الطلاق،الباب السادس،فصل فی ما تحل بہ المطلقۃ، ج:1، ص:473، ط: رشیدیه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144410100978

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں