بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوہ،دوبیٹوں اور تین بیٹیوں میں میراث کی تقسیم کا طریقہ


سوال

میرے والد کا انتقال ہو گیا ہے ،ان کی ایک بیوی، 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، وراثت میں 10 لاکھ نقد اور ایک گھر چھوڑا ہے ،جس کی قیمت 15,000,000 (ڈیڑھ کروڑ)روپےہیں،مہربانی فرماکرکس کا کتناحصہ ہے ،بتادیں،اورہماری فیملی کے حساب سے وراثت کی تقسیم کا فارمولا بھی بنادیں تاکہ اگرکوئی اورچیزوراثت میں آتی ہو،توہم خود فارمولاکے حساب تقسیم کرلیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے والدمرحوم کی میراث کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے آپ کے والدمرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد،اگرآپ کے والدمرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو،اس کو اداکرنے کے بعد،اگرآپ کے والدمرحوم نے کوئی جائزوصیت کی ہواس کومابقی مال کے ایک تہائی میں نافذکرنے کے بعدباقی ترکہ منقولہ وغیرمنقولہ کو8حصوں میں تقسیم کرکےمرحوم کی بیوہ کو 1حصہ ،ہرایک بیٹے کو 2حصے،ہرایک بیٹی کو1حصہ ملےگا۔

صورتِ تقسیم یہ ہے :8

بیوہبیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹی
122111

فیصدکے حساب مرحوم کی بیوہ کو12.5فیصد،ہرایک بیٹےکو25فیصد اورہرایک بیٹی 12.5فیصدملےگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101875

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں