بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 صفر 1443ھ 28 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کا بچوں کی پرورش کی خاطر شادی نہ کرنا


سوال

بیوہ عورت شوہر کے بچوں کی پرورش کرتی رہے اور  شادی نہ کرے تو  کیا اسے آخرت میں کچھ ملے گا ؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں بچوں کی پرورش کی خاطر بیوہ کا کہیں شادی نہ کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔

سنن أبي داود (4 / 338):

"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنا وامرأة سفعاء الخدين كهاتين يوم القيامة» وأومأ يزيد بالوسطى والسبابة «امرأة آمت من زوجها ذات منصب، وجمال، حبست نفسها على يتاماها حتى بانوا أو ماتوا»

ترجمه :  نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اور وہ عورت جو بدہیبت سیاہ رخسار والی ہو  (کنایہ ہے اس بات سے کہ اس نے شوہر کے مرنے کے بعد اس کے یتیم بچوں کی کفالت میں اپنا زیب و زینت چھوڑ دیا ہو) ان دوانگلیوں کی طرح ہوں گے قیامت کے روز (جس طرح دو انگلیاں بالکل قریب ہیں اسی طرح ایسی عورت میرے قریب ہوگی) اور  یزید راوی نے درمیانی اور انگشت شہادت  کو ملاکر اشارہ کیا، اس سے مراد وہ عورت جو عزت ومنصب اور حسن و جمال والی ہو اور شوہر کے مرنے کے بعد اس کے یتیم بچوں کی کفالت کے  لیے اپنے آپ کو شادی سے روکے رکھے، یہاں تک کہ وہ بڑے ہوجائیں یا مر جائیں۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200578

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں