بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، ایک بیٹا اور والدین میں میراث کی تقسیم


سوال

 ایک بندہ وفات ہو گیا ہے اور اس نے ترکہ میں 9لاکھ روپے چھوڑے ہیں، اب اس 9لاکھ روپے کو اس کی ماں ،باپ اور بیوی اور ایک بیٹے کے درمیان کس طرح تقسیم کریں گے ؟

جواب

مرحوم کے ورثاء  میں والد، والدہ ،بیوی  اور ایک بیٹا ہے تو اس صورت میں میراث کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ   کہ مرحوم کی جائیداد میں سے اولاً ان کی تجہیز و تکفین اور قرضہ جات  ادا کیے جائیں، پھر اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اُس کو ایک تہائی ترکہ  میں سے نافذ کیا جائے، اس کے بعد مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 24 حصوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیوہ کو 3 حصے، بیٹے کو  13  حصے، والد کو  4 حصے اور والدہ کو  4  حصے  ملیں گے۔

میت/ 24

بیوہوالد والدہبیٹا
34413

 یعنی اگر کل ترکہ نو لاکھ روپے ہیں تو بیوہ کو 112500 روپے ،بیٹے کو 487500 روپےاور  والد اور والدہ میں سے ہر ایک کو 150،000 ،روپے ملیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503101028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں