بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1444ھ 11 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوہ اور ایک بیٹی میں میراث کی تقسیم


سوال

میرے شوہر کا گھر ہے، شوہر کا انتقال ہوگیا ہے ،صرف ایک بیٹی اور ایک بیوہ ہے ،شوہر کا کوئی بھائی  بہن اور والدین نہیں ہیں، وراثت میں کس کس کا حصہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر کا کوئی بھتیجا یا اس کا بیٹا موجود ہویا مرحوم کا کوئی چچا یا چچازاد بھائی یا اس کا بیٹا موجود ہو تو وہ بھی شرعاً سائلہ کے مرحوم شوہر کے وارث ہوں گے،اور ان کو بھی مرحوم کے ترکہ میں سے شرعاً حصہ ملے گا،اوراگر  مرحوم کے آبائی خاندان میں کوئی مرد مثلاً بھتیجا یا اس کا بیٹا یا چچا یا چچازاد بھائی یا اس کا بیٹا ان میں سے کوئی ایک مرد بھی  مرحوم کے انتقال کے وقت موجود نہ ہو تو اس صورت میں مرحوم کے کل ترکہ کو آٹھ حصوں میں تقسیم کرکے ایک  حصہ مرحوم کی بیوہ یعنی سائلہ کو اور سات حصے مرحوم کی بیٹی کو ملیں گے،اور اگر مرحوم کے آبائی خاندان میں کوئی مرد ان مذکورہ افراد میں سے موجود ہو تو ان کی تفصیل  لکھ کر بھیج دیں، تو اس کے مطابق ہر ایک کا حصہ بتادیا جائے گا۔ 

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:8

بیوہ بیٹی
1قبل الرد:4
1بعد الرد:7

یعنی 100روپے میں سے 12.5روپے مرحوم کی بیوہ  یعنی سائلہ کو  اور87.5 روپے مرحوم کی بیٹی کو ملیں گے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(الباب الثالث في العصبات) وهم كل من ليس له سهم مقدر ويأخذ ما بقي من سهام ذوي الفروض وإذا انفرد أخذ جميع المال، كذا في الاختيار شرح المختار.

فالعصبة نوعان: نسبية وسببية، فالنسبية ثلاثة أنواع: عصبة بنفسه وهو كل ذكر لا يدخل في نسبته إلى الميت أنثى وهم أربعة أصناف: جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده، كذا في التبيين فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم، ثم ابن الأخ لأب ثم العم لأب وأم ثم العم لأب ثم ابن العم لأب وأم، ثم ابن العم لأب ثم عم الأب لأب وأم ثم عم الأب لأب ثم ابن عم الأب لأب وأم، ثم ابن عم الأب لأب ثم عم الجد، هكذا في المبسوط."

(كتاب الفرائض،الباب الثالث في العصبات،451/6،ط:رشيدية)

وفيه أيضا:

"‌‌[الباب الرابع عشر في الرد]وهو ضد العول الفاضل عن سهام ذوي السهام يرد عليهم بقدر سهامهم إلا على الزوجين وبه أخذ أصحابنا - رضي الله عنهم - كذا في محيط السرخسي واعلم أن جميع من يرد عليه سبعة الأم والجدة والبنت وبنت الابن والأخوات من الأبوين، والأخوات لأب، وأولاد الأم، ويقع الرد على جنس واحد وعلى جنسين وعلى ثلاثة ولا يكون على أكثر من ذلك، والسهام المردود عليها أربعة الاثنان والثلاثة والأربعة والخمسة كذا في الاختيار شرح المختار."

(كتاب الفرائض،الباب الرابع في الرد،469/6،ط:رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311101925

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں