بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شوال 1443ھ 19 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

بیوہ، 3 بیٹوں اور 4 بیٹیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم


سوال

ہمارے والد کا انتقال ہوگیا ہے، ترکہ میں دو مکان چھوڑے ہیں، ورثاء میں ایک بیوہ،تین بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں ہیں، ہم نے دونوں مکان تقریباً 35 لاکھ روپے میں بیچ دیے ہیں، قانونی کاروائی کے اخراجات نکالنے کے بعد ساڑھے اکتیس لاکھ (3،150،000) روپے بچے ہیں، ہ ہم ورثاء میں کیسے تقسیم ہوں گے؟ والد کے والدین پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم  کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحوم کے   حقوقِ  متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرضہ ہو  تو کل ترکہ سے  قرضہ ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت کو نافذ کرکے  باقی کل  منقولہ و غیر منقولہ ترکہ  کو 80 حصوں میں تقسیم کر کے اس میں سے 10 حصے  بیوہ کو،  14 حصے  ہر بیٹے کو اور 7 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت:8/ 80

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
101414147777

ساڑھے اکتیس لاکھ (3،150،000) روپے میں سے تین لاکھ ترانوے ہزار سات سو پچاس (393،750) روپےبیوہ کو، پانچ لاکھ اکاون ہزار دو سو پچاس (551،250) روپے  ہر ایک بیٹے کو اور دو لاکھ پچھتر ہزار چھ سو پچیس (275،625) روپے  ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما الاثنان من السبب فالزوج والزوجة فللزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن، والربع مع الولد أو ولد الابن وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهما، والزوجات والواحدة يشتركن في الربع والثمن وعليه الإجماع، كذا في الاختيار شرح المختار".

( كتاب الفرائض،الباب الثاني في ذوي الفروض،ج:6/ 450، ط: رشيدية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين".

(كتاب الفرائض،الباب الثاني في ذوي الفروض،ج: 6/ 448، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144304100555

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں